Express News:
2026-07-23@23:55:18 GMT

مخالف قوتیں چاہتی ہیں عمران خان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے، سلمان اکرم راجا

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

راولپنڈی:

تحریکِ انصاف کے سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ عمران خان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے اور مفاہمت کے نام پر ذاتی فائدے حاصل کیے جائیں، مگر تحریکِ انصاف ایسے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کو گہری کھائی میں دھکیل دیا گیا ہے اور موجودہ نظام لڑکھڑا چکا ہے جس کا کوئی مستقبل نہیں۔ یہ نظام رعونت اور نشے میں مبتلا ہو چکا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ظلم، عدالتوں کو مفلوج کر کے اور جبر کے ذریعے حکومت چلائی جا سکتی ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ملک میں سرمایہ کاری مکمل طور پر رک چکی ہے، غربت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ کاروباری طبقے نے قومی بینکوں سے قرضے لینا بند کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ریاستی ادارے، اسٹیٹ بینک اور بیورو آف اسٹیٹسٹکس خود اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ قومی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ ڈاکٹرز، انجینئرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کے باعث ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ اس نظام سے نفرت کرتے ہیں اور عوام کو بار بار اپنی بے زاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہوگا۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ مفاہمت اسی وقت معنی خیز ہو سکتی ہے جب نظام کو یہ نظر آئے کہ عوام اس سے بیزار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ معیشت کو بہتر بنانے کے دعوے کرنے والوں نے اربوں کی سرمایہ کاری لانے کے بجائے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچایا۔

سوال و جواب کے سیشن میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سب ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے، پہلے جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں، سزائیں دلوائی جاتی ہیں اور پھر اپیلوں کی سماعت تک نہیں ہونے دی جاتی۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گجرانوالہ میں 51 کارکنوں کو پانچ، پانچ سال کی سزائیں دی گئیں جبکہ ڈیڑھ سال سے ان کی اپیلیں نہیں لگ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملٹری عدالتوں سے دی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی حالانکہ سپریم کورٹ 45 دن میں اپیل کا حق دینے کا حکم دے چکی ہے، مگر دو سال گزرنے کے باوجود شنوائی نہیں ہوئی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ ایک ظالمانہ اور فرعونی نظام ہے جس کے خلاف تحریکِ انصاف جدوجہد جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا