ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کراچی گئے تو لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب تمام لوگوں کو پتا چل چکا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، ہم نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔ پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کراچی گئے تو لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب تمام لوگوں کو پتا چل چکا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اب اپنا مقدمہ خود لڑیں گے کیونکہ عوام کو آئین نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے لیے آواز اٹھائیں ۔ ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ چکے ہیں۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو بے وقعت کیا گیا ہے۔ ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بیٹھ کر بات کی جائے۔ اگر لوگوں کو ناحق جیل میں ڈالا جائے گا تو ملک کیسے آگے بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ اپنا فیصلہ خود کرتی ہے ۔ اب ہر شخص نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس وقت نظام پر مسلط ہیں انہیں عوام کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں ایسا کچھ ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس وقت ملک میں ترقی نہیں ہو رہی اور نہ ہی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کی ذمہ داری اب انہی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا جانا چاہیے۔ سینیٹ میں راجا ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنایا جانا چاہیے۔ اسپیکر کو چاہیے کہ وہ ان کی تقرری کر دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔