بلوچستان؛ مختلف حادثات میں دو بھائیوں سمیت تین افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان میں دو مختلف حادثات کے دوران دو بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
ضلع لورالائی کے علاقے میختر میں سیہنڑ پل کے قریب سانڈہ موڑ پر تیز رفتار کار اور موٹر سائیکل کے درمیان شدید تصادم ہوا۔
ریسکیو اور پولیس ذرائع کے مطابق یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب مزدوری کرنے والے دو بھائی موٹر سائیکل پر اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ روزگار سے فارغ ہو کر خاندان کے پاس لوٹتے ہوئے اچانک آنے والی کار نے انہیں زور دار ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جاں بحق افراد کی لاشیں ٹیچنگ اسپتال لورالائی منتقل کیں جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد انہیں ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا۔ پولیس نے کار کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور ڈرائیور سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں تیز رفتاری اور غیر احتیاطی ڈرائیونگ کو بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، ضلع لسبیلہ کے علاقے حب کے وندر میں بریدہ کیمپ کے قریب مجاہد پیر اسٹاپ پر ایک اور ہولناک حادثہ رونما ہوا، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ اور آئل ٹینکر کے درمیان شدید ٹکر ہوئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ایک شخص موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے چند کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو اور پولیس ٹیمیں فوری پہنچیں اور زخمیوں کو بحفاظت نکال کر وندر سول اسپتال منتقل کیا جہاں زخمیوں کا مزید علاج جاری ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر تیز رفتاری، لین تبدیل کرنے کی کوشش یا دیگر عوامل اس سانحے کا سبب بنے۔ حادثاتی جگہ کا معائنہ جاری ہے اور حتمی وجوہات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔
یہ دونوں حادثات بلوچستان میں سڑک حادثات کے خطرناک رجحان کو مزید واضح کرتے ہیں۔ خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں، مسافر کوچوں اور بھاری گاڑیوں کے ساتھ ایسے واقعات عام ہو چکے ہیں۔
مقامی باشندوں، سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک مقامات جیسے سانڈہ موڑ اور مجاہد پیر اسٹاپ پر فوری طور پر اسپیڈ بریکرز، بہتر سائن بورڈز، لائٹنگ اور سخت ٹریفک کنٹرول نافذ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
فوٹو: فائلوزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔
دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔