نئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
محمود خان اچکزئی 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں بلوچستان سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 266 چمن سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، وہ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام تر اختیارات بھی محمود خان اچکزئی کو دے رکھے ہیں۔
محمود خان اچکزئی پاکستان کے سینیئر سیاسی رہنما، پشتون قومی حقوق کے علمبردار اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP) کے چیئرمین ہیں۔ وہ 14 دسمبر 1948 کو کوئٹہ، بلوچستان میں پیدا ہوئے اور سول انجینئرنگ میں بی ایس سی کی ڈگری یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، پشاور سے حاصل کی۔
1989 سے وہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ہیں، جس کی قیادت انہوں نے اپنے والد عبدالصمد خان اچکزئی کے انتقال کے بعد سنبھالی۔
محمود خان اچکزئی 2002، 2013، اور 2024 میں مختلف حلقوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور آج 15 جنوری 2026 کو وہ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مقرر ہو گئے ہیں، جس کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔
محمود خان اچکزئی موجودہ سیاسی بحران میں آئینی عمل اور جمہوری تسلسل کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کی مضبوطی پاکستان کے استحکام کی بنیاد ہے اور کسی بھی سیاسی حل کے لیے لوگوں کی رضا اور قانون کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے بار بار فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کو آئین کے دائرے میں کام کرنے کی وکالت کی ہے اور سیاسی مداخلت سے باز رہنے کی تاکید کی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے حکومت مخالف اتحاد ’تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان‘ کی قیادت کرتے ہوئے سیاسی احتجاجوں اور جلسوں میں حصہ لیا ہے، خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا چاہیے، وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے تیار رہنے کا پیغام بھی دیتے رہے ہیں، اور قومی سطح پر مسائل کے حل میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کے لیے
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ