خدمت مرکز ایک جگہ60 سے زائد سروسز، عوام کو سہولتین ملیں گی: شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کوآسان ، شفاف اور تیز ترین خدمات کی فراہمی کے لئے ’پاکستان آسان خدمت مرکز‘ کا افتتاح کر دیا، جمعرات کو افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس مرکز سے عوام کو بے پناہ آسانیاں اور 60 سے زائد محکموں سے متعلق خدمات فراہم کی جائیں گی، جدید ٹیکنالوجی آذربائیجان کی طرف سے ہمارے لیے تحفہ ہے۔ آذربائیجان کے صدرالہام علیوف کے غیرمعمولی تعاون پر ان کے شکر گزار ہیں۔ اسی طرح کے مراکز آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی قائم کئے جائیں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ،وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاءاللہ تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آسان خدمت مرکزکا افتتاح کیا گیا ہے، آذربائیجان کے دورے کے دوران باکو میں خدمت مرکز کا دورہ کیا تھا اور اس دورے کے دوران فیصلہ کیا کہ اس طرز کے ادارے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی قائم کریں گے، اس سلسلے میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے غیرمعمولی تعاون پر ان کے شکر گزار ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی آذربائیجان کی طرف سے ہمارے لیے تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آسان خدمت مرکز سے عوام کو بے پناہ سہولیات اور آسانیاں میسر آئیں گی، پاکستان آسان خدمت مرکز کے لیے ماسٹر ٹرینرز نے آذر بائیجان سے تربیت حاصل کی ہے۔ ماسٹر ٹرینرز خدمات کی فراہمی میں اخلاق اور احترام کے جذبے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، آسان خدمت مرکزمیں نادرا، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، سی ڈی اے، سوئی گیس اور دیگر محکموں سے متعلقہ خدمات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آسان خدمت مراکز آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر شہروں میں کھولیں گے۔ عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ضروری ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان آسان خدمت مرکز عوامی خدمات کے نظام ایک انقلابی قدم ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم کو پاکستان آسان خدمت مرکز میں دستیاب سہولیات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے آسان خدمت مرکز کے مختلف حصوں کا دورہ کیا ، مرکزمیں دی جانے والی خدمات کا جائزہ لیا اور ان خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری کیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے آسان خدمت مرکز اسلام آباد کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے آئے ہوئے آذربائیجان کے وفد نے ملاقات کی اور بطور خادم پنجاب اور اب بطور وزیر اعظم ملک میں اصلاحات کے نفاذ اور نظام میں جدت لانے پر وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔ ملاقات میں آذربائیجان کے پبلک سروس اور سوشل سروس کے چیئرمین علوی مہدئیو، آذربائیجان کے پاکستان میں سفیر خضر فرہادوف، وفاقی وزراءاحد خان چیمہ، عطاءاللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کے پبلک سروس اور سوشل سروس کے چیئرمین علوی مہدئیو کے پاکستان کے دورے اور اسلام آباد میں آسان خدمت مرکز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے آسان خدمت مرکز کے بارے بریفنگ دی گئی۔ ملاقات میں بتایا گیا کہ شہریوں کی سہولت کیلئے سیکٹر G-9 میں قائم پہلے خدمت سینٹر کی جلد توسیع کی جائیگی۔ آذربائیجان کی حکومت پاکستان بھر میں آسان خدمت مراکز کے قیام میں پاکستان کی بھرپور معاونت کرے گی۔ آسان خدمت مراکز میں شفافیت کیلئے نہ صرف انٹرنل آڈٹ بلکہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی یقینی بنائی جائے گی۔ آذربائیجان سفیر نے ملاقات میں بتایا کہ اسلام آباد اور آذربائیجان کے مابین ہفتہ وار تین پروازوں کے علاوہ مارچ میں مزید ایک پرواز کا اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں وفاقی حکومت کی خدمات کو ایک چھت تلے فراہم کرنے کیلئے مزید آسان خدمت مراکز بنائے جائیں گے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور حکومت کے معاونت میں شکرگزار ہیں، پاکستان میں حکومتی خدمات کے ایکو سسٹم کو یکسر بدلنے کیلئے کوشاں ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مرکز بنائے جائیں گے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریلویز میں ادارہ جاتی اور انتظامی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پاکستان ریلویز بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل روڈ میپ آئندہ ہفتے پیش کرے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات اور ترقی کے حوالے سے نجی شعبے کے ماہرین کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹیننٹ جنرل (ر) سرفراز احمد اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور حکام کے علاوہ نجی شعبے کے ماہرین زید بشیر، پیر سعد احسان الدین اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے مجموعی معاشی ترقی، علاقائی صنعت و تجارت میں تعاون اور عوامی سہولت اور کمرشل استعمال کے لیے ریلویز کی معیاری کارکردگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دستیاب ذرائع اور معاشی مسائل کے باوجود بہترین کارکردگی پر وزارت ریلویز کی تمام ٹیم کو شاباش دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی مجموعی ترقی، صنعت و تجارت اور دیگر شعبہ جات کی بہتری میں نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت حکومت کے معاشی اصلاحات کا حصہ ہے۔ پاکستان ریلویز قلیل وسائل کے باوجود نہایت تندہی اور محنت سے مو ثر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس پر وفاقی وزیر ریلویز اور ان کی ٹیم لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز میں ادارہ جاتی اور انتظامی کارکردگی کو مزید موثر کرنے کے لیے انقلابی اقدامات دہائیوں سے ناگزیر تھے۔ پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات اور ا س کو مزید منافع بخش بنانے سے یہ ادارہ ملکی صنعت و تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز تمام متعلقہ اکائیوں اور اداروں سے بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل روڈ میپ آئندہ ہفتے پیش کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز کی معاشی ترقی اور علاقائی تعاون میں اہمیت کے پیش نظر حکومت نے انقلابی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے اطمینان بخش نتائج سامنے آرہے ہیں، علاوہ ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے شہزادی ہند بنت سعود بن عبدالعزیز آل سعود کے انتقال پر سعودی شاہی خاندان اور سعودی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام سعودی حکومت اور عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیراعظم نے شہزادی ہند بنت سعود بن عبدالعزیز آل سعود کے درجات کی بلندی اور سوگواران کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت پاکستانی عوام سعودی حکومت اور عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے لئے چین کی فراخدلانہ معاونت بالخصوص سی پیک کے تحت تعاون کو سراہتے ہوئے اس کے آئندہ مرحلے پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی شعبے (آئی ڈی سی پی سی) کی نائب وزیر سن ہائی یان نےوزیراعظم ہاﺅس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں معاون خصوصی سید طارق فاطمی، چین کے لئے وزیر اعظم کے خصوصی نمائندے ظفر الدین محمود اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔وزیر اعظم نے معزز چینی مہمان اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ اس اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کا آغاز پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے بیجنگ کے کامیاب دورے سے ہوا جس کے بعد وزیر داخلہ نے شنگھائی کا دورہ کیا جبکہ آئندہ دنوں میں سپیکر قومی اسمبلی کا دورہ چین بھی متوقع ہے۔وزیر اعظم نے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کے لیے اپنی دلی نیک تمناﺅں کا اظہار کیا۔ انہوں نے چین کے ساتھ پاکستان کی فولاد کی طرح مضبوط تذویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلق ہر حال میں غیر متزلزل رہے گا۔ وزیر اعظم نے ”ایک چین“ پالیسی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے اقتصادی شراکت داری کے حوالے سے پاکستان کے لئے چین کی فراخدلانہ معاونت بالخصوص سی پیک کے تحت تعاون کو سراہا اور سی پیک کے اگلے مرحلے کے بروقت نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے صدر شی جن پنگ کو اس سال پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا کیونکہ یہ سال دونوں ممالک کے لیے خصوصی اہمیت اور ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔چینی نائب وزیر نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے طویل المدتی اور آزمودہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے ملک میں اقتصادی اور سیاسی استحکام لانے پر وزیر اعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چینی قوم پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر فخر کرتی ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کئے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بہتر طرز حکمرانی کے لیے سیاسی قوتوں کو متحد کرنے میں وزیر اعظم کے قائدانہ کردار کو بھی سراہا۔چینی نائب وزیر نے جماعتی سطح پر تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بین الجماعتی طریقہ کار کے ذریعے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے عزم اور پختہ ارادے کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں چینی نائب وزیر سن ہائی یان کا کہنا ہے کہ چین کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، سی پیک کا پہلا مرحلہ بہت کامیاب رہا اب دوسرا مرحلہ شروع کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چینی نائب وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع کررہے ہیں، ہمیں مزید شراکت داروں کو آن بورڈ لینا ہوگا، دوسرا مرحلہ پیچیدہ ہے، دوسرے مرحلے کو کامیاب بنانے کے لیے کام کررہے ہیں، لوگوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ چینی نائب وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں انڈسٹریل پارکا سکولز بنائے، مزید پروجیکٹ پرکام کر رہے ہیں، پاکستان میں لوگوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ 30 ہزار پاکستانی طلبہ سکالر شپ پر چین میں ہیں، ہم پاکستان میں 100 ہسپتال بنا رہے ہیں، 80 ہزار میڈیکل ڈیوائسز دے رہے ہیں۔ پاکستان میں نرسز اور ڈاکٹرز کو تربیت دے رہے ہیں۔ سن ہائی یان کا کہنا تھا کہ ہم نے دو طرفہ تعلقات میں بہت کچھ حاصل کیا، اس سال چین پاک دوستی کے75سال مکمل ہو رہے ہیں، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے لیڈرز سے مشاورت کی ہے۔ پاکستان چین کے تعلقات کو بلند ترین سطح پر لے جانا چاہتے ہیں۔ چین کی گزشتہ 5 سال جی ڈی پی 5.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان آسان خدمت مرکز پاکستان ریلویز میں نے کہا کہ پاکستان آسان خدمت مراکز انہوں نے کہا کہ چینی نائب وزیر آذربائیجان کے اعظم نے کہا کہ پاکستان میں پاکستان کے پاکستان کی نے پاکستان ملاقات میں وفاقی وزیر اسلام آباد کر رہے ہیں کرتے ہوئے بنانے کے ہوئے کہا اور دیگر کا دورہ اعظم کو کے ساتھ کا کہنا کو مزید اور ان چین کی کے لیے کے لئے سی پیک
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں