پاکستان اور ازبکستان اقتصادی شراکت داری میں تیزی، 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کی جانب پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان اور ازبکستان اپنے اقتصادی تعلقات مضبوط کر رہے ہیں اور باہمی تجارتی حجم کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں صنعتی تعاون، سرمایہ کاری، اور مشترکہ منصوبوں کی رفتار تیز کی جا رہی ہے، جبکہ متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ازبکستان سے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت، پاکستان کا صنعتی و سیاحتی تعاون بڑھانے کا اعلان
پاکستان اور ازبکستان کے اعلیٰ حکام کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں صنعتی اور تجارتی تعاون کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان، اور ازبکستان کے نائب وزیر برائے سرمایہ کاری، صنعت اور تجارت، شاہ رخ غلاموف نے شرکت کی۔
ملاقات میں باہمی مشترکہ منصوبہ کمیٹیوں کو فعال کرنے اور صنعتی و تجارتی شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے عملی نفاذ پر زور دیا گیا۔
دونوں ممالک نے خطے میں رابطوں، صنعتی تعاون، اور سیاحت کی ترقی کو تجارتی حجم بڑھانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، اور پائیدار اقتصادی ترقی اور خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ازبکستان مشترکہ منصوبہ کمیٹیاں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی منتقلی، اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے لیے کام کریں گی، جبکہ سرمایہ کاری کے تعاون کے طریقہ کار ازبک سرمایہ کاری کو پاکستان کی صنعتی اور پیداواری صنعتوں میں متوجہ کریں گے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبہ پاکستان کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے؟
دونوں ممالک نے باہمی تجارتی مواقع کو بڑھانے، پاکستان کے خطے میں تجارتی نیٹ ورک کو متنوع بنانے، اور وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان پاکستان کو ایک اہم تجارتی اور ترسیلی مرکز کے طور پر مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
سیاحت اور صنعتی تعاون کے منصوبے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دیں گے اور خطے میں اقتصادی ترقی اور استحکام میں مددگار ثابت ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک ازبکستان پاک ازبکستان تجارت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک ازبکستان پاک ازبکستان تجارت اور ازبکستان سرمایہ کاری صنعتی تعاون کے لیے
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر