اسلام ٹائمز: حقیقت یہ ہے کہ ایران میں مہنگائی کا طوفان براہِ راست امریکی پابندیوں کا نتیجہ ہے، اور اس جارحیت کا نشانہ ایرانی حکومت نہیں بلکہ عام ایرانی عوام بن رہے ہیں۔ ایرانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ان کے واضح دشمن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت امریکی آلہ کار شرپسند عناصر سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے اور مٹھی بھر شرپسندوں کی شناخت صیہونی ایجنٹوں کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران ابھی اپنا حقیقی رنگ دکھائے گا۔ دنیا اب امریکہ کے انسان کش چہرے کو پہچان چکی ہے، اور امریکی و صیہونی سازشیں بالآخر خود امریکی استعمار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔ تحریر: سید انجم رضا

امریکہ نے گزشتہ چند دہائیوں میں نام نہاد مہذب عالمی سماج کی وہ بنیادیں خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کردی ہیں، جن کا ڈھنڈورا پیٹ کر وہ خود کو دنیا کا رہنما اور مہذب قوت ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ وینزویلا پر جارحیت اور منتخب صدر کے اغوا جیسے اقدامات کسی ایک خطے یا وقتی پالیسی کا شاخسانہ نہیں بلکہ امریکی بدمعاشی کا صرف ابتدائی ٹریلر ہیں۔ اصل فلم ابھی باقی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ انسانی حقوق، جمہوریت، آزادی، باہمی احترام، ریاستی خودمختاری اور قومی تشخص جیسے بلند بانگ دعوے آج امریکی اور یورپی منافقت کے ملبے تلے دب چکے ہیں۔ غزہ کی جنگ نے اس منافقت کو اس حد تک بے نقاب کر دیا ہے کہ اب مغرب کے جھوٹے نعروں پر یقین کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں رہا۔ فلسطینی بچوں، عورتوں اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام پر خاموشی بلکہ قاتل کی پشت پناہی نے ثابت کر دیا کہ مغرب کے نزدیک انسانی جان کی کوئی حیثیت نہیں، سوائے اس کے کہ وہ ان کے مفادات کے تابع ہو۔

امریکہ اور یورپ نے اپنے معاشی، سیاسی اور اسٹریٹیجک مفادات کو بچانے کی خاطر تمام اخلاقی اقدار کو سولی پر چڑھا دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک مرحلہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی نظام کی مکمل تباہی ہے۔ جب مغربی دنیا کو لیڈ کرنے والا ایک احمق صدر یہ اعلان کرے کہ "جو میں کہوں گا وہی قانون ہوگا"، تو یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ عالمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج امریکہ طاقت کی زبان کو ہی حق ماننے والا ایک عفریت بن چکا ہے۔ یہ عفریت صرف تیسری دنیا، مسلم ممالک یا ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ اب کینیڈا اور گرین لینڈ جیسے ممالک پر قبضے کی ہوس کا اظہار بھی اسی ذہنیت کا تسلسل ہے۔ لاطینی امریکہ میں وینزویلا پر جارحیت دراصل امریکی عالمی بدمعاشی کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ خود امریکی سینٹرز اور دانشور بھی اب اس بہیمانہ رویے کے خطرناک مضمرات پر بول اٹھے ہیں۔ وہ سمجھ چکے ہیں کہ امریکی بدمعاشی کا خمیازہ صرف ایشیا، افریقہ یا لاطینی امریکہ کو ہی نہیں بلکہ خود یورپ کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ ٹرمپ جیسے رہنماؤں کے بیانات اس حقیقت کو مزید واضح کر رہے ہیں کہ امریکہ خوف کی بنیاد پر جارحیت اختیار کر رہا ہے، اور خوف ہمیشہ زوال کی علامت ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے ماضی میں بھی لاطینی امریکہ میں مسلسل مداخلت اور جارحیت کو اپنی پالیسی کا حصہ بنائے رکھا۔ وینزویلا میں امریکی مداخلت پر روس اور چین کا فوری ردعمل اگرچہ محتاط اور نارمل دکھائی دیتا ہے، مگر مستقبل میں ان قوتوں کے فعال کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکی نظام مسلسل تنزل کی طرف جا رہا ہے۔ امریکہ کی دشمنی سے زیادہ اس کی دوستی خطرناک ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس کی دوستی غلامی کا مطالبہ کرتی ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کے خلاف امریکی دھمکیاں بھی ہمیشہ کی طرح ناکام ثابت ہوں گی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایرانی عوام نے ہر دور میں امریکی مداخلت کو مسترد کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہر نظام کی طرح ایران میں بھی ریاست مخالف عناصر موجود ہیں، مگر جب یہی عناصر امریکی و صیہونی آلہ کار بن کر تشدد، قتل و غارت، مساجد اور مقدس مقامات کو آگ لگانے جیسے جرائم کریں تو یہ احتجاج نہیں بلکہ کھلی بلوہ گیری بن جاتی ہے۔ ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ایک عوامی حقیقت تھے، جنہیں خود رہبرِ معظم انقلاب اور صدرِ مملکت نے تسلیم کیا، مگر تشدد آمیز فسادات اور عوامی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت عوامی تحریک نہیں کہلا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران میں مہنگائی کا طوفان براہِ راست امریکی پابندیوں کا نتیجہ ہے، اور اس جارحیت کا نشانہ ایرانی حکومت نہیں بلکہ عام ایرانی عوام بن رہے ہیں۔ ایرانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ان کے واضح دشمن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت امریکی آلہ کار شرپسند عناصر سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے اور مٹھی بھر شرپسندوں کی شناخت صیہونی ایجنٹوں کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران ابھی اپنا حقیقی رنگ دکھائے گا۔ دنیا اب امریکہ کے انسان کش چہرے کو پہچان چکی ہے، اور امریکی و صیہونی سازشیں بالآخر خود امریکی استعمار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔ تاریخ کا پہیہ اب الٹا نہیں گھومے گا، اور ظلم، جبر اور بدمعاشی کا انجام ہمیشہ کی طرح رسوائی اور زوال ہی ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی عوام بدمعاشی کا ایران میں نہیں بلکہ کہ امریکہ یہ ہے کہ اور اس ہیں کہ رہی ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل