ایران کی جانب پیش قدمی؟ امریکا نے طیارہ بردار جنگی بیڑا روانہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی طیاروں، میزائل اور جہاز کا ایک گروپ بھیجا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ممکنہ طور پر ایران کی جانب پیش قدمی کے لیے مشرق وسطیٰ میں صف بندی شروع کردی۔
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ جنوبی چین کے سمندر سے USS Abraham Lincoln نامی طیارہ بردار جنگی بیڑے کو مشرق وسطیٰ کی جانب بھیجا ہے۔
جنوبی چین کے سمندر میں تعینات اب یہ طیارہ بردار جنگی بیڑا امریکی وسطی کمان (CENTCOM) کے لیے استعمال ہوگا۔
مشرق وسطیٰ بھیجے گئے اس جنگی بیڑے میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر کے ساتھ تیر باہدف میزائل کروز، تباہ کن جہاز اور دیگر جنگی کشتیاں شامل ہیں۔
امریکا کے اس جنگی بیڑے کی جنوبی چین سے مشرق وسطیٰ میں منتقلی کا فیصلہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں اور حکومت کے جواب پر اپنے ردعمل میں اعلان کیا ہے کہ وہ تمام ممکنہ آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر نے متنبہ کیا کہ اگر ایران نے مظاہرین پر تشدد جاری رکھا تو شدید اور بڑی فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے۔
ایک جانب صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کی اپیل اور دوسری طرف امریکی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو مشرقی وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر سمیت دیگر عرب ممالک کو پیغام دیا تھا کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔