جنوبی کوریا میں مارشل لا نافذ کرکے پر صدر کو قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک یول کو مارشل لا کے غیر آئینی نفاذ، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 5 سال قید کی سزا سنا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق صدر نے دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے لیے آئین اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کیا اور تفتیشی اداروں کے کام میں دانستہ رکاوٹیں ڈالیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ یون سُک یول نے اپنی گرفتاری کے وارنٹ پر عملدرآمد رکوانے کے لیے سرکاری دستاویزات میں جعلسازی کی اور گرفتاری نہ دیکر انصاف کے عمل کو متاثر کیا۔
عدالت کے بقول صدر نے کابینہ کے بعض ارکان کو دانستہ طور پر جلاس سے باہر رکھا تاکہ مارشل لا کا نفاذ کرسکیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بطور صدر، یون سُک یول پر آئین کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی مگر انھوں نے اپنے اقتدار کے لیے ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔
استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق صدر یون سُک یول اور ان کے سابق وزیرِ دفاع کم یونگ ہیون نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کی۔
جنوبی کوریا کے میڈیا نے عدالتی فیصلے کو براہِ راست نشر کیا۔ عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو قانون کی بالادستی کی جیت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بعض قدامت پسند حلقے اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کر رہے ہیں۔
سابق صدر یون سُک یول کے وکیل نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سابق صدر نے مارشل لا کا نفاذ اپنے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ملکی سلامتی کے پیشِ نظر کیا تھا۔
یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں اُس وقت کے صدر یون سُک یول نے ملک کو اندرونی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر مارشل لا نافذ کردیا تھا۔
تاہم منتخب پارلیمان نے صدر کے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور مواخذے کی تحریک پیش کی گئی۔ اسمبلی اجلاس کو طاقت سے بھی روکنے کی کوشش کی گئی۔
جس پر ارکان اسمبلی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔
البتہ اس ملک گیر احتجاج میں اہم موڑ اس وقت آیا جب فوج کے ایک بڑے حصے نے عوام پر براہِ راست فائرنگ کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔
اعلیٰ عدلیہ نے بھی صدر کے مارشل لا کو نافذ کرنے کے اقدام کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے۔ پارلیمان نے مارشل لا کو غیر آئنی قرار دیدیا۔
جس کے باعث 4 دسمبر کو صدر یون سک یول مارشل لا اُٹھانے پر مجبور ہوگئے تھے اور اس طرح ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔
اس دوران پارلیمان میں دو مرتبہ صدر کے مواخذے کے تحاریک کثرت رائے سے منتخب ہوئی لیکن اکثر سماعت میں وہ غیر حاضر رہے۔
بعد ازاں صدر یون نے ایک سماعت میں کہا کہ مارشل لا کا فیصلہ سخت ذہنی دباؤ کا نتیجہ تھا میں نے سیکیورٹی فورسز کو طاقت کے استعمال کا حکم نہیں دیا تھا۔
پولیس نے صدر یون سک یول کو 15 جنوری کو باضابطہ طور پر حراست میں لے لیا تھا۔ وہ جنوبی کوریا کے پہلے صدر تھے جو مدت صدارت میں گرفتار ہوئے۔
آٹھ رکنی عدالت نے 4 اپریل 2025 کو جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کو مواخذے کے مقدمے میں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا کے صدر یون س ک یول مارشل لا نافذ فیصلے کو کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز