Express News:
2026-07-24@09:33:59 GMT

جنوبی کوریا میں مارشل لا نافذ کرکے پر صدر کو قید کی سزا

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک یول کو مارشل لا کے غیر آئینی نفاذ، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 5 سال قید کی سزا سنا دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق صدر نے دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے لیے آئین اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کیا اور تفتیشی اداروں کے کام میں دانستہ رکاوٹیں ڈالیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ یون سُک یول نے اپنی گرفتاری کے وارنٹ پر عملدرآمد رکوانے کے لیے سرکاری دستاویزات میں جعلسازی کی اور گرفتاری نہ دیکر انصاف کے عمل کو متاثر کیا۔

عدالت کے بقول صدر نے کابینہ کے بعض ارکان کو دانستہ طور پر جلاس سے باہر رکھا تاکہ مارشل لا کا نفاذ کرسکیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق بطور صدر، یون سُک یول پر آئین کی حفاظت اور قانون کی حکمرانی کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی مگر انھوں نے اپنے اقتدار کے لیے ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔

استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق صدر یون سُک یول اور ان کے سابق وزیرِ دفاع کم یونگ ہیون نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کی۔

جنوبی کوریا کے میڈیا نے عدالتی فیصلے کو براہِ راست نشر کیا۔ عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو قانون کی بالادستی کی جیت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بعض قدامت پسند حلقے اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کر رہے ہیں۔

سابق صدر یون سُک یول کے وکیل نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سابق صدر نے مارشل لا کا نفاذ اپنے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ملکی سلامتی کے پیشِ نظر کیا تھا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں اُس وقت کے صدر یون سُک یول نے ملک کو اندرونی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر مارشل لا نافذ کردیا تھا۔

تاہم منتخب پارلیمان نے صدر کے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور مواخذے کی تحریک پیش کی گئی۔ اسمبلی اجلاس کو طاقت سے بھی روکنے کی کوشش کی گئی۔

جس پر ارکان اسمبلی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔

 البتہ اس ملک گیر احتجاج میں اہم موڑ اس وقت آیا جب فوج کے ایک بڑے حصے نے عوام پر براہِ راست فائرنگ کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔

اعلیٰ عدلیہ نے بھی صدر کے مارشل لا کو نافذ کرنے کے اقدام کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے۔ پارلیمان نے مارشل لا کو غیر آئنی قرار دیدیا۔

جس کے باعث 4 دسمبر کو صدر یون سک یول مارشل لا اُٹھانے پر مجبور ہوگئے تھے اور اس طرح ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔

اس دوران پارلیمان میں دو مرتبہ صدر کے مواخذے کے تحاریک کثرت رائے سے منتخب ہوئی لیکن اکثر سماعت میں وہ غیر حاضر رہے۔

بعد ازاں صدر یون نے ایک سماعت میں کہا کہ مارشل لا کا فیصلہ سخت ذہنی دباؤ کا نتیجہ تھا میں نے سیکیورٹی فورسز کو طاقت کے استعمال کا حکم نہیں دیا تھا۔

پولیس نے صدر یون سک یول کو 15 جنوری کو باضابطہ طور پر حراست میں لے لیا تھا۔ وہ جنوبی کوریا کے پہلے صدر تھے جو مدت صدارت میں گرفتار ہوئے۔

آٹھ رکنی عدالت نے 4 اپریل 2025 کو جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کو مواخذے کے مقدمے میں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنوبی کوریا کے صدر یون س ک یول مارشل لا نافذ فیصلے کو کے لیے

پڑھیں:

سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد

لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا