معراج النبیؐ کا بے مثال معجزہ بیداری کے عالم میں جسم مبارک کے ساتھ 27 رجب المرجب کی شب وقوع پذیر ہوا۔ اس وقت نبی کریمؐ کی عمر مبارک لگ بھگ اکیاون برس آٹھ ماہ بیس دن تھی۔ یہ نبوت کا بارھواں سال تھا۔
واقعۂ معراج حضور پاکؐ کے بلند و اعلیٰ مرتبے کی نشان دہی کرتا ہے۔ قرآن حکیم فرقان حمید میں اس کی تصریح اور احادیث مبارکہ میں اس کی تشریح و تفصیل موجود ہے۔ قرآن حکیم نے سورۂ بنی اسرائیل کی ابتدا ہی اس آیۂ مبارکہ سے فرمائی جس میں اسریٰ و معراج کا ذکر ہے، مفہوم: ''پاک ہے وہ ذات جو اپنے (خاص) بندے کو راتوں رات لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم الشان نشانیاں دکھائیں۔ بے شک! وہ سنتا اور دیکھتا ہے۔''
سفر معراج کی دوسری منزل کا ذکر سورۂ نجم میں کیا گیا ہے، مفہوم: ''اور اس بندے نے اﷲ عزوجل کو دیکھا ایک (خاص) نزول کے ساتھ جب کہ وہ بندہ ''سدرۃ المنتہٰی'' کے نزدیک موجود تھا۔ نہ نگاہ جھپکی، نہ حد سے تجاوز ہوئی، بلاشبہ! آپؐ نے (شبِ معراج) اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ''
لیلہ کے معنیٰ رات اور معراج کے معنیٰ بلندی کے ہیں۔ یہ رات اس لیے بابرکت اور عروج کی رات ہے کہ رسول کریمؐ نے آسمانوں کی سیر فرمائی اور اﷲ رب العزت کی تجلّی سے سرفراز ہوئے۔ بعض مفسرین نے اصطلاحی امتیاز کے لیے مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس کی سیر کو ''اسرا'' اور بیت المقدس سے عرش بریں تک کے سفر کو ''معراج'' کے نام سے موسوم کیا ہے۔
اس سفر مبارک میں رسول کریمؐ سب سے پہلے مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر اس کے بعد آسمانوں کی سیر کے لیے تشریف لے گئے۔ قرآن حکیم نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ باوجود اتنے بڑے اعزاز و اکرام کے نبی کریمؐ کی عبدیت میں کوئی فرق نہیں آیا اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم نے نبی کریمؐ کو وہ اعزاز بخشا جو کسی اور کو نہ دیا۔
امام مسلم نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریمؐ فرماتے ہیں، مفہوم: ''میرے پاس ایک براق لایا گیا جو سفید رنگ کا تھا۔ وہ اتنا تیز رفتار تھا کہ جتنی دور انسانی نظر پڑتی ہے، اتنی دور اس کا ایک قدم پڑتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوگیا اور بیت المقدس آیا، پھر اسے اس پتھر کے ساتھ اسے باندھا جس پتھر کے ساتھ دیگر انبیائے کرامؑ اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ وہاں تمام انبیائے کرامؑ موجود تھے، ان کی امامت کی۔ اس کے بعد ہم آسمان پر پہنچے۔ ہر آسمان پر انبیائے کرامؑ سے ملاقات ہوئی۔ سبھی نے مجھے دعائیں دیں۔''
آخر میں سید الانبیاء ﷺ نے خداوند قدوس کے حضور حاضر ہوکر یہ حمد و ثناء کی، مفہوم : ''تمام تعریفیں اس اﷲ کی جس نے مجھے جہاں بھر کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور لوگوں کے لیے بشارت دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا اور مجھ پر قرآن حکیم نازل کیا جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے، اور میری امت کو درمیانی بنایا اور میری امت کو گردانا کہ وہی اوّل ہے اور وہی آخر ہے۔ پھر میرے سینے کو کھولا اور دور کیا مجھ سے میرا بوجھ اور بلند کیا میرے لیے میرا ذکر اور مجھے فاتح اور خاتم بنایا۔''
اس پر حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا: ''اے محمدؐ! اس بنا پر اﷲ تعالیٰ نے آپؐ کو سب سے افضل قرار دیا۔'' رسول کریمؐ فرماتے ہیں، مفہوم: ''اس کے بعد مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، یہاں اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر جو وحی چاہی فرمائی۔'' مذکور ہے کہ یہاں آپؐ تن تنہا اپنے رب سے شرف ملاقات کے لیے ''خطیرۃ القدس'' تک پہنچے اور رو بہ رو شرف کلامی حاصل ہوا۔ آپؐ نے اﷲ عزوجل کے حضور پرخلوص سلام و نیاز پیش کیا۔ یہ وہ اعزاز ہے جو کائنات کی کسی مخلوق کو خواہ وہ نبی ہوں یا ملائکہ حاصل نہ ہوسکا۔
نبی کریمؐ نے فرمایا، مفہوم: ''رایت نوراً'' (یعنی میں نے اس نور کو دیکھا) پھر وہ کار خاص جس کے لیے بارگاہ خداوندی میں حاضری کے لیے بہ طور خاص فرش سے عرش پر طلب کیا گیا تھا، ان امور کی وحی ہوئی۔ اس موقع پر جو احکامات جاری فرمائے گئے، ان میں سے چند یہ ہیں۔
٭ ہر روز پچاس نمازوں کی فرضیت کا حکم ہوا جو آپؐ کی بار بار استدعا پر گھٹتے گھٹتے پانچ رہ گئیں۔ لیکن گنتی میں کمی کے باوجود تول میں ان پانچ نمازوں کا وزن پچاس کے برابر قرار پایا۔ ٭ سوائے شرک کے تمام گناہوں کے قابل معافی ہونے کا امکان۔ ٭ نیکی کی نیت پر ایک نیکی کا ثواب اور اس کے عمل کرنے پر دس گنا ثواب، اسی طرح گناہ کی نیت پر برأت، لیکن اس پر عمل کرنے پر ایک ہی گناہ نامۂ اعمال میں لکھے جانے کی خبر دی گئی۔
ان کے علاوہ اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کی تعمیر و تشکیل کے لیے چودہ نکات پیش کیے گئے جو سورۂ بنی اسرائیل کی 23 تا29 آیات پر مشتمل ہیں۔ یہ نکات ایک مضبوط، متوازن اور دیرپا معاشرے کے قیام، بقاء اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔
بعدازاں رسول اکرمؐ واپس بیت المقدس پہنچے اور جن انبیائے کرامؑ کے ساتھ مختلف آسمانوں پر آپؐ کی ملاقات ہوئی تھی، وہ سب اور جملہ ملائکہ بھی آپؐ کو رخصت کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ تک آپؐ کے ہم سفر رہے۔
قرآن حکیم کے ارشادات اور احادیث مبارکہ سے یہ بالکل واضح ہے کہ یہ معراج جسمانی ہوئی تھی، صرف روحانی نہیں ہوئی، کیوں کہ اگر صرف خواب ہوتا تو وضاحت سے ''منام'' کا لفظ آتا جس طرح حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کے واقعے میں ہے۔ معراج النبیؐ کا واقعہ اس لیے پیش آیا کہ فخر کائنات رحمۃ للعالمین ﷺ اﷲ تعالیٰ کی علامات کا بہ ذات خود اپنی نگاہ مبارک سے مشاہدہ فرمالیں، چناں چہ اس کا مشاہدہ خوب ہوا۔
شب معراج اس بات کی یاد تازہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے جس کے لیے بہ طور خاص آپؐ کو آسمانوں پر طلب کیا گیا تھا۔ آج بھی واقعۂ معراج کے پیغامات اسلامی معاشرے اور ریاست کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا سکتے ہیں، بہ شرطے کہ ہم سوچیں، سمجھیں اور صدق دل سے ان پر عمل کریں۔
معراج النبیؐ کی اصل اہمیت اس کی کیفیت کی جزئیات میں کھوجانے میں نہیں، بل کہ معراج ایک عظیم ترین معجزہ، ایک عظیم ترین واقعہ اور ایک عظیم ترین پیغام ہے جو ایک عظیم ترین شخصیت یعنی محمد مصطفیٰ سرور دو جہاں ﷺ کے ساتھ خالق دو جہاں کے حکم سے پیش آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایک عظیم ترین انبیائے کرام بیت المقدس قرا ن حکیم کے ساتھ اور اس کے لیے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔