زینتھ پبلک ریلیشنز نے ریپو میڈیا انٹیلی جنس کے ساتھ شراکت داری کی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
زینتھ پبلک ریلیشنز (Xenith PR) نے ریپو میڈیا انٹیلی جنس (Repu Media Intelligence) کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت فروری 2026 سے ایکیومن میڈیا انٹیلی جنس (Acumen Media Intelligence) کو زینتھ پی آر کی اسٹریٹجک کمیونیکیشن سروسز میں شامل کیا جائے گا۔
اس شراکت داری کا مقصد زینتھ پی آر کی کارپوریٹ کمیونیکیشن اور شہرت کی حفاظت (Reputation Management) کی مہارت کو ایکیومن کے جدید، اے آئی پر مبنی بزنس انٹیلی جنس پلیٹ فارم کے ساتھ یکجا کرنا ہے۔ ایکیومن کا نظام نہ صرف عالمی رسائی رکھتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے مخصوص مواد، اردو اور دیگر علاقائی زبانوں میں بھی معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم روایتی، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے تمام پہلوؤں کو کور کرتا ہے، جس سے زینتھ پی آر کی میڈیا لسٹننگ اور معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس اقدام سے روایتی مانیٹرنگ کے بجائے ریئل ٹائم معلومات، فوری فیصلہ سازی، ٹاسک آٹومیشن اور پیش گوئی پر مبنی انٹیلی جنس کو فروغ ملے گا۔
اس مفاہمتی یادداشت پر ریپو میڈیا انٹیلی جنس کے شریک بانی عون دارا خان اور زینتھ پی آر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راحیل نبی نے دستخط کیے۔
راحیل نبی نے کہا کہ ہم ریپو کے ساتھ شراکت داری پر بہت خوش ہیں۔ اس سے ہم دنیا کے بڑے میڈیا انٹیلی جنس پلیٹ فارمز میں سے ایک، ایکیومن کو اپنا رہے ہیں اور اے آئی کی طاقت کو اپنے کام میں شامل کر سکیں گے۔ ایسے وقت میں جب خبریں اور بیانیے تیزی سے بدل رہے ہیں، یہ نظام ہمیں صورتحال کو بہتر سمجھنے، فوری معلومات حاصل کرنے اور اپنے کلائنٹس کے لیے مضبوط بیانیے بنانے میں مدد دے گا۔”
عون دارا خان نے کہا کہ یہ معاہدہ ڈیٹا پر مبنی معلومات کو اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے ساتھ جوڑنے کا اہم قدم ہے۔ ایکیومن کی اے آئی صلاحیتوں کو زینتھ پی آر کے تجربے اور اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ کے ساتھ ملا کر ہم مقامی اور عالمی سطح پر زیادہ واضح اور مؤثر معلومات فراہم کر سکیں گے۔ اس سے ریپوٹیشن مینجمنٹ مضبوط ہوگی اور ادارے پیچیدہ حالات میں بہتر فیصلے کر سکیں گے۔”
مفاہمتی یادداشت کے تحت یہ شراکت داری صرف ٹیکنالوجی کے استعمال تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اے آئی پر اعتماد بڑھانے اور ریپوٹیشن مینجمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ اس سے یہ واضح ہوگا کہ ریئل ٹائم انٹیلی جنس اور ماہرانہ تجزیہ کس طرح اسٹریٹجک کمیونیکیشن کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میڈیا انٹیلی جنس زینتھ پی آر شراکت داری کے ساتھ اے آئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔