انفارمیشن کمیشن کے اراکین کا سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)معلومات تک رسائی اور شفافیت کے قانون 2016 کے تحت سندھ انفارمیشن کمیشن کے اراکین محمد سلیم خان اور نور محمد دایو نے بہتر نظم و نسق اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلیے سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کا دورہ کیا،اراکین نے اسپتال کے بجٹ،ڈاکٹرز،پیرا میڈیکل اسٹاف کی تفصیل، ریکارڈ روم ،ادویات کے اسٹور اور دیگر امور کا جائزہ لیا اور اسپتال کے مختلف وارڈز اور سیکشنز بشمول میڈیکل ری امبرسمنٹ سیکشن Medical Reimbursement section کا بھی دورہ کیا انہوں نے اسپتال کی فزیو تھراپی اور ڈینٹل او پی ڈی میں موجود مریضوں سے انہیں فراہم کی جانے والی علاج معالجہ کی سہولیات کے بارے میں بھی دریافت کیا،انفارمیشن کمیشن کے اراکین نے اسپتال کی ویب سائٹ کے فعال نہ ہونے اور ایکٹ کے تحت معلومات کی فراہمی کیلیے افسر مقرر نہ کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ویب سائٹ کو فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایکٹ کے تحت درکار تمام معلومات کو اپ لوڈ کرنے کے بھی احکامات دئیے اس موقع پر انفارمیشن کمشنر محمد سلیم خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر پاکستان شہری کا بنیادی حق ہے جو کہ اسے آئین پاکستان کے سیکشن 19-ا ے کے تحت بھی دیا گیا ہے اس لئے تمام سرکاری ادارے عوامی مفاد کی معلومات فراہم کرنے اور سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے پابند ہیں انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت تمام سرکاری محکمے عوام کو معلومات کی فراہمی کیلیے 16 یا اس سے اوپر گریڈ کا افسر مقرر کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے تحت
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔