گورنر کاکراچی پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کے اعزاز میںظہرانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے گورنر ہاؤس میں کراچی پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی پریس کلب ایک جمہوریت پسند ادارہ ہے ، انتخابی عمل کی بروقت تکمیل اور 18 سال سے کارکردگی کی بنیاد پر کامیاب پینل کو ذاتی طور پر مبارکباد دیتا ہوں، میڈیا نے ہمیشہ مجھے، گورنر ہاؤس اور ہمارے فلاحی و تعلیمی انیشیٹیوز کو بھرپور سپورٹ کیا۔ گورنر سندھ نے کراچی پریس کلب کے اراکین کو آئی ٹی کلاسز کرانے سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے کہا کہ کراچی پریس کلب کے لیز کا مسئلہ درپیش ہے، اس ضمن میں آپ کی مدد درکار ہے۔سیکرٹری پریس کلب اسلم خان نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں جبکہ سیکرٹری کے پی سی نے کہا کہ گورنر سندھ کے فلاحی انیشیٹیوز قابلِ تحسین ہیں۔نو منتخب باڈی نے تجویز دی کہ پریس کلب ممبران اور ان کے بچوں کو آئی ٹی انیشیٹیوز کے کورسز میں کوٹہ دیا جائے۔ علاوہ ازیںگورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے SOGO E-Bikes کے فلیگ شپ آؤٹ لیٹ کا افتتاح کردیا۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہاکہ جب ا س ملک کے دفاع کا معاملہ آیا توفیلڈ مارشل کی قیادت میں فورسز نے ہمیں مایوس نہیں کیا، جنگ جیت لی ،ہم ایک فاتح قوم ہیں ،قرضوں سے آزادی کے دن آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تاجر اور صنعتکار برادری سے کہتا ہوں کہ پاکستان اب عالمی معاشی مرکز بن رہا ہے، 70 برس کی مشکلات کے بعد اچھے دن آ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی پریس کلب کے گورنر سندھ نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔