اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو 2 فروری تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو 2 فروری تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو 2 فروری تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس خادم حسین سومرو نے 4 صفحات کا تحریری حکم جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے سمیت دیگر فریقین 2 فروری تک اسلام آباد میں کوئی درخت نا کاٹیں۔
سی ڈی اے ، وزرات موسمیاتی تبدیلی اور انوئر مینٹل ایجنسی کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر فریقین تفصیلی جواب آئندہ سماعت تک جمع کرائیں۔
حکم نامہ میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے بتایا کہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی میں درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس اور ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق سی ڈی اے حکام نے ابھی تک نہیں بتایا ہزاروں درخت کاٹنے کی وجہ کیا تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسرگودھا میں شدید دھند کے باعث ٹرک نہر میں گر گیا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی سرگودھا میں شدید دھند کے باعث ٹرک نہر میں گر گیا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے بیٹے کی گاڑی کو حادثہ خاران، دہشتگردوں کا تھانے اور بینکوں پر حملہ، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 12دہشتگرد ہلاک بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، روسی صدر ولادیمیر پوتن وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کی ملاقات مخالف قوتیں چاہتی ہیں عمران خان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے،ایسے کسی دباو کو قبول نہیں کرینگے، سلمان اکرم راجاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد فروری تک سی ڈی اے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔