مریم نواز کے فری ہوم ڈیلیوری پراجیکٹ نے عوامی خدمت کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب میں سرکاری سطح پر معیاری اور سستی اشیاء کی ہوم ڈیلیوری کا پہلا اور بے مثال پراجیکٹ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں کامیابی سے جاری ہے, یہ پراجیکٹ عوامی خدمت کا نیا ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔
پنجاب کے 35 شہروں کے 46 سہولت بازاروں سے فری ہوم ڈیلیوری کے تحت عوام کو گھر کی دہلیز پر تین لاکھ 12 ہزار سے زائد آرڈرز کی ڈیلیوری مکمل کی گئی ہے۔ پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے اس پراجیکٹ کے ذریعے 13 بنیادی اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے، جن کے نرخ ڈی سی نوٹیفائیڈ ریٹ سے بھی 7 فیصد تک کم ہیں۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
شہری گوگل پلے سٹور اور ایپل اسٹور پر دستیاب فری ہوم ڈیلیوری ایپ کے ذریعے آرڈر کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف ڈیلیوری مفت ہوتی ہے بلکہ صارفین 7 فیصد تک بچت بھی کر سکتے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے آلو، پیاز، ٹماٹر، کدو، لہسن، سیب، کیلا، کھجور، لیموں، امرود اور تربوز سمیت دال چنا، بیسن، آٹا اور چینی بھی آرڈر کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ فری ہوم ڈیلیوری کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے 110 ملین روپے کی بچت ہوئی ہے اور سستی، معیاری اشیاء کی فراہمی عوام کے لیے بے مثال ہے۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ مہنگائی کے اثرات کسی صورت عوام تک نہیں پہنچنے دیں گے اور یہ پراجیکٹ بتدریج پنجاب کے دیگر شہروں تک بڑھایا جائے گا۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔