روس پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، صدر پیوٹن
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی مفاد پر مبنی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بات انہوں نے پاکستان کے نو تعینات سفیر فیصل ترابی کی جانب سے اسنادِ سفارت پیش کیے جانے کے موقع پر کہی۔
روسی صدر نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے گا، خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر دونوں ممالک کے مفادات ہم آہنگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں علاقائی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس موقع پر پیوٹن نے عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت سنگین چیلنجز سے دوچار ہے جہاں پرانے تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں اور نئے بحران جنم لے رہے ہیں جب کہ یکطرفہ فیصلے سفارت کاری کی جگہ لے رہے ہیں۔
روسی صدر نے زور دیا کہ عالمی امن کا انحصار بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مضبوط بنانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک ملک کی سلامتی دوسرے ملک کی سلامتی کی قیمت پر یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔ اس اصول کو نظرانداز کرنے کے نتائج ہمیشہ منفی نکلے ہیں۔
پیوٹن نے کہا کہ روس کثیر قطبی عالمی نظام پر یقین رکھتا ہے اور تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعمیری تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے، اور یہی راستہ دنیا کو استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔