محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اویس کیانی : اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات ہوئی جس میں پاک امریکہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی سربراہی میں آئے ہوئے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کی، ملاقات میں دونوں فریقین نے پاک امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
خیرپور ؛ خسرہ کی وبا بے قابو ، 3 ننھے پھول مرجھاگئے
ملاقات میں دوطرفہ سکیورٹی تعاون، بارڈر مینجمنٹ، اور امریکی اداروں جیسے اینٹی ٹیررسٹ سسٹنٹس پروگرام اور بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ کے ساتھ جاری شراکت کو مضبوط بنانے پر بات ہوئی، مستقبل میں ہر سطح پر بہتر کوآرڈینیشن کے ذریعے پاک امریکہ تعاون کو مزید فروغ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ بیرون ملک جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی جدید سافٹ ویئر کے ذریعے کی جائے گی اور ایف آئی اے، فیڈرل کانسٹیبلری اور سائبر کرائم ایجنسی کے افسران کے لیے تربیتی پروگرامز جاری رہیں گے، امریکی تعاون سے ایف آئی اے میں سنٹر فار ٹرانسفارمیشن کرائم اور اکیڈمی کے قیام کے امور بھی آگے بڑھائے جائیں گے۔
اپنی ہی 2 بیٹیوں کے ساتھ زیادتی، بدبخت باپ نے اعترافِ جرم کرلیا
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بارڈر سکیورٹی اور کوسٹل گارڈز کو جدید امریکی آلات سے لیس کیا جائے گا جس سے ان کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا، یہ وفاقی سطح پر پہلا اینٹی ٹیررسٹ ونگ ہوگا جو صوبوں کے ساتھ موثر کوآرڈینیشن کرے گا۔
ملاقات میں امریکی وفد نے پاکستان کی سکیورٹی کوششوں کو سراہا اور اعلان کیا کہ وہ دوطرفہ اشتراک بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے، اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی، ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
پیکجز مہنگے ہونے پر انٹرنیٹ کمپنیوں کی وضاحت سامنے آ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔