ایران نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیان کو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تشدد اور دہشتگردی کے واقعات میں اسرائیلی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ردِعمل میں کہا گیا کہ ایران میں ہونے والے پُرامن مظاہروں کو صہیونی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر نے پرتشدد شکل دی۔

Statement in Response to the Interventionist Statement of the G7 Countries

The Ministry of Foreign Affairs of the Islamic Republic of #Iran strongly condemns the interventionist statement of the #G7 countries regarding Iran’s internal affairs and considers it as a clear evidence… https://t.

co/0d7aayTSgJ

— Foreign Ministry, Islamic Republic of Iran (@IRIMFA_EN) January 17, 2026

بیان کے مطابق 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اکسانے کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیاکہ ایران آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور شہری آزادیوں کا پابند ہے، تاہم ریاست شہریوں کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ جی سیون ممالک کی جانب سے ایران کے اندرونی معاملات پر دیا گیا بیان مداخلت پسندانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے اور انسانی حقوق کے نام پر امریکا کی قیادت میں اس گروپ کا دوہرا معیار بے نقاب ہو چکا ہے، جبکہ خود ان ممالک کا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق فلسطینی عوام کی نسل کشی میں جی سیون ممالک اسرائیل کے ساتھ براہِ راست شریک ہیں اور انہیں انسانی حقوق کے حوالے سے کسی دوسرے ملک پر تنقید کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی قوم 2025 کے دوران اسرائیلی حملوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا کہ جی سیون ایران کے داخلی معاملات میں غیر قانونی مداخلت کا سلسلہ بند کرے، ایران کے خلاف عائد ناجائز پابندیاں ختم کی جائیں اور انسانی حقوق جیسے عالمی اقدار کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ انسانی حقوق کے نام پر تشدد اور دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران اس بات کے خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ امریکا ایران پر حملے کرنے جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کو پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ احتجاج جاری رکھیں اور ملکی اداروں پر قبضہ کرلیں، مدد پہنچنے والی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری: امریکا اور اسرائیل فسادات کرا رہے ہیں، عوام دور رہیں، صدر مسعود پزشکیان

تاہم اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے خود ہی خود کو قائل کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی ہاتھ جی سیون ممالک داخلی معاملات دہشتگردی مداخلت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی ہاتھ جی سیون ممالک داخلی معاملات دہشتگردی مداخلت داخلی معاملات جی سیون ممالک ایران کے کہ ایران کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ