data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260118-03-7
عمران احمد سلفی
دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی عام گردش سے الگ ہو جاتے ہیں، جہاں صدیوں کے فیصلے چند دنوں میں رقم ہونے لگتے ہیں، جہاں زمین کی سانسیں بھاری اور آسمان کی خاموشی خوفناک ہو جاتی ہے۔ 7 جنوری ایسا ہی ایک دن بن کر ابھرا ہے، ایک ایسا دن جس نے انسانیت کو آئینہ دکھا دیا کہ وہ کس سمت میں دوڑ رہی ہے۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں سے واپسی کا راستہ دھندلا پڑ چکا ہے اور آگے صرف اندیشوں، دھماکوں اور چیخوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ آج دنیا کسی ایک جنگ کے دہانے پر نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی تصادم کے سائے میں کھڑی ہے جس کی لپیٹ میں نسلیں جل سکتی ہیں، تہذیبیں راکھ ہو سکتی ہیں اور تاریخ ایک بار پھر خون سے لکھی جا سکتی ہے۔ شمالی بحرِ اوقیانوس میں امریکی اسپیشل فورسز کا روسی پرچم بردار آئل ٹینکر پر اچانک دھاوا محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ سرد جنگ کے بعد قائم نازک توازن پر کاری ضرب ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دو عالمی سپر پاورز پہلی بار براہِ راست ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔ روس کی جانب سے اس اقدام کو کھلی بحری قزاقی قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ سفارتی زبان اپنی تاثیر کھو چکی ہے اور اب ہر فریق بندوق کی نالی سے بات کرنے پر آمادہ ہے۔ ایسے واقعات تاریخ میں کبھی معمولی ثابت نہیں ہوئے، یہ ہمیشہ بڑے طوفانوں کا پیش خیمہ بنے ہیں۔
اسی پس منظر میں امریکی فضائیہ کے اسلحہ بردار طیاروں کی غیر معمولی نقل و حرکت، C-5 اور C-17 جیسے دیوہیکل جہازوں کا مشرقِ وسطیٰ کی جانب رخ کرنا، اس بات کا اعلان ہے کہ آنے والے دن خاموش نہیں ہوں گے۔ وینزویلا پر حملے کے بعد ایران اور روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی امریکی محاذ آرائی اور برطانیہ کی سرگرمیاں یہ واضح کر رہی ہیں کہ دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک منظم پیش قدمی ہے جو عالمی نظام کو نئے سرے سے طاقت کے بل پر ترتیب دینا چاہتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کو جب 1413 دن گزر چکے ہوں اور امن کی کوئی کرن نظر نہ آئے تو یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ کیا انسان نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا؟ ڈرون حملے، ناٹو کی بالواسطہ مداخلت اور روسی فوجی پیش قدمی اس جنگ کو علاقائی حدوں سے نکال کر عالمی تصادم کی سمت دھکیل رہی ہے۔ یہ وہ آگ ہے جس میں اگر ایک قدم اور بڑھا تو شعلے براعظموں کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ تو پہلے ہی صدیوں سے آزمائشوں کی سرزمین رہا ہے، مگر اب یہ خطہ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملوں کے خلاف پیشگی کارروائی کی دھمکیاں، اسرائیلی فوجی تیاریاں اور ٹرمپ و نیتن یاہو کے درمیان ایران پر حملوں سے متعلق گفتگو اس حقیقت کو عیاں کر رہی ہے کہ 2026 اس خطے کے لیے فیصلہ کن سال بن سکتا ہے۔ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یہ جنگ صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ
اس کی لپیٹ میں آ جائے گا اور امریکا براہِ راست میدان میں اتر سکتا ہے، جس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی لرزا دینے والا ہے۔ عرب دنیا کی حالت بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ وَیل لِلعَرَبِ مِن شَرٍّ قَدِ اقتَرَبَ کی بازگشت حالات میں صاف سنائی دیتی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کے مسئلے پر بڑھتی کشیدگی، سوڈان اور صومالیہ کے تنازعات، باہمی عدم اعتماد اور خانہ جنگیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا کے قریبی اتحادی اب خود ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ یہ انتشار اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے سائے میں بننے والے اتحاد ہمیشہ دیرپا نہیں ہوتے۔ ان سب کے درمیان سب سے بڑا خطرہ چین اور تائیوان کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔ چین کی بے مثال فوجی نقل و حرکت اور امریکا کی جانب سے تائیوان کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنا اس خطے کو تیسری عالمی جنگ کے ممکنہ مرکز میں تبدیل کر رہا ہے۔ اگر یہاں چنگاری بھڑکی تو روس، امریکا اور چین ایک ہی آگ میں کود پڑیں گے، اور پھر اس آگ کو بجھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یہ وہ منظرنامہ ہے جس سے دنیا دہائیوں سے خوف زدہ ہے، مگر اب وہ خوف حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دے رہا ہے۔
سیاسی اور عسکری طوفانوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مذہبی اور نظریاتی حلقوں میں آخری زمانے اور عالمی جنگ کی پیش گوئیاں بھی شدت اختیار کر چکی ہیں۔ اسلامی مصادر میں فتنوں کا ذکر ہو یا مغربی اور یہودی اسکیٹالوجی میں آرمگڈن کا تصور، ایک ہی حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے، جب طاقتور خود کو خدا سمجھنے لگیں، تو پھر تاریخ کا پہیہ الٰہی مداخلت کی طرف مڑ جاتا ہے۔ آج بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں، سفارت کاری دم توڑ رہی ہے اور بندوق کی زبان دلیل پر غالب آ چکی ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں طاقتور حکمران طاقت کے زعم میں خدائی نظام سے بغاوت کر چکے ہیں۔ ان کے افعال دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خدا کے وجود ہی سے بے نیاز ہو چکے ہوں۔ قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے کہ جب کسی بستی کے عیش پرستوں کو ڈھیل دی جاتی ہے اور وہ فسق و فجور میں ڈوب جاتے ہیں تو پھر تباہی کا فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔ یہ محض ایک آیت نہیں بلکہ تاریخ کا اٹل قانون ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے۔ دنیا اب ایسے موڑ پر آ پہنچی ہے جہاں سدھرنے کی امید قریب قریب ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے، کیونکہ طاقتور سننے کے لیے تیار نہیں، وہ صرف گولی کی زبان میں بات کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں الٰہی مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور الٰہی وعدوں کی تکمیل کا مرحلہ قریب آ رہا ہے۔ وَانتَظِرْوا اِنَّا مْنتَظِرْونَ کی صدا گویا آج کے انسان کو جھنجھوڑ رہی ہے کہ انجام سے غافل نہ ہو۔ آخری بات یہی ہے کہ یہ دور محض خوف کا نہیں بلکہ غور و فکر کا بھی ہے۔ یہ وقت ہے کہ انسان اپنی سرکشی، اپنی ہوسِ اقتدار اور اپنی جنگی دیوانگی پر نظر ِ ثانی کرے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو تاریخ کا قلم ایک بار پھر خون میں ڈوبا ہوا ہوگا اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جب آسمان زمین کو آخری بار مہلت دے رہا ہے، اور اگر یہ مہلت ضائع ہو گئی تو پھر فیصلہ انسان کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے درمیان نہیں بلکہ کی جانب ہے کہ ا رہا ہے ہے اور رہی ہے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔