فائربریگیڈ تاخیر سے پہنچی، گل پلازہ کے دکانداروں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی کے مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ کے دکانداروں نے شکوہ کیا ہے کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ شدت اختیار کر گئی جس کے باعث اسے تیسرے درجے کی قرار دے دیا گیا۔
آتشزدگی کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمی ہونے والوں میں سے 8 آگ سے جھلسے ہیں۔
واقعے کے بعد گورنر سندھ گل پلازہ پہنچے جہاں انہوں نے متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔
اس دوران دکانداروں نے شکوہ کیا کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی اور گاڑیوں میں پانی بھی نہیں تھا۔
مزید پڑھیںکراچی: گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی، 3 افراد جاں بحق، 20 زخمی
کراچی ایف بی ایریا میں فیکٹری میں آتشزدگی، فائر بریگیڈ کی 5 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف
اس پر گورنر سندھ نے کہا کہ ابھی ان باتوں کا وقت نہیں پہلے انسانی جانیں بچانی ہیں۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ دکاندار کہہ رہے ہیں کہ عمارت میں 100 لوگ پھنسے ہوئے ہیں، آگ بجھے تو انسانی جانیں بچانے کی کوشش کی جائے گی۔
دکانداروں کے دعوے پر گورنر سندھ نے کہا کہ عمارت میں لوگوں کے محصور ہونے کی کوئی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی ہے جبکہ یہاں لوگ جو بھی باتیں کررہے ہیں ہم وہ صرف سن رہے ہیں۔
دوسری جانب میئر کراچی نے آتشزدگی کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تمام بلدیاتی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔
میئر کراچی کی ہدایت پر میونسپل کمشنر کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کی ہیوی مشینری بھی جائے وقوعہ پہنچی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ گل پلازہ
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔