ورلڈ آرڈر عالمی اورامریکہ کے قوانین سے بالا تر ہیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل نہیں چاہتا ہے امریکا ایران پر حملہ نہ کر ے ،اس وجہ یہ ہے اس سے اسرائیل پر شدید ایرانی حملوں کا خدشہ ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کسی نے مجھے ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمدہ نہیں کیا تھا۔ 17جنوری کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا عرب ممالک اور اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر فوری حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟ اس پر صدر ٹرمپ نے برملا کہا کہ تاحال حملہ نہ کرنے کا فیصلہ انہوں نے کسی کے دباؤ یا تجویز پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر لیا اور اس کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے کل 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، جب ایران نے یہ پھانسیاں منسوخ کر دیں تو میں نے بھی حملہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی تھی۔ یہ بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے اب تک کا سب سے واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے تناظر میں فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز فرانسیسی خبر ایجنسی نے سعودی حکام کے حوالے سے لکھا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے ایران پر ممکنہ امریکی حملہ رکوانے کے لیے آخری لمحات میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایک موقع پر دینے پر رضا مند ہوگئے۔ اس کے بعد امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
اے ایف پی کے مطابق ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے پڑوسی ممالک خوفزدہ کیوں؟ امریکی حملے سے علاقائی جنگ کی آگ بھڑکنے سے لے کر مہاجرین کی بڑی لہروں کے خطرات۔ تفصیلات کے مطابق خلیجی ممالک سے لے کر ترکی اور پاکستان تک، ایران کے پڑوسی ان خطرات سے بخوبی واقف ہیں جو اسلامی جمہوریہ (ایران) کو نشانہ بنانے والے امریکی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ جن میں علاقائی جنگ کی آگ بھڑکنے سے لے کر مہاجرین کی بڑی لہریں تک شامل ہیں۔ خلیج میں واشنگٹن (امریکہ) کے اتحادیوں کی سب سے بڑی تشویش ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی ہے۔ اگرچہ یہ ممالک امریکی تحفظ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
امریکہ نے نئے سال کے دوران اٹھائے یا جن کا عندیہ دیا اور جس کا اثر اصل معاملے سے زیادہ طریقہ کار پر ہونے کا امکان ہے۔ان اقدامات میں وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی زبردستی امریکہ منتقلی، روسی پرچم تلے سفر کرنے والے تیل کے ٹینکر کو پکڑنا جسے پابندیاں توڑنے والے ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور گرین لینڈ پر امریکی عزائم کا ٹرمپ اور دیگر کی جانب سے اعادہ شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر حملہ نہ کر ایران پر
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔