ہمارے اجداد نے دارالحکومت بنانے کیلیے اپنی زمینیں دیں، نیئر بخاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260118-08-5
اسلام آباد(آن لائن)سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نیئر بخاری نے کہا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے دارالحکومت بنانے کیلیے اپنی زمینیں دیں اورقائداعظم محمد علی جناحؒ سے کیا گیاوعدہ پورا کیا، 60 برس سے متاثرین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور اس تمام صورتحال کی ذمہ دار کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے متاثرین اسلام آباد کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کیلیے اسلام آباد میں کیے گئے احتجاج مظاہرے سے خطاب میں کیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ انہوںنے متاثرین کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ نیئر بخاری نے کہا کہ 1962 میں ایوارڈ ہوا مگر متاثرین آج تک اپنے حقوق کے منتظر ہیں۔ نیئر بخاری نے کہا کہ میں نے اس وقت بھی چیلنج کیا تھا کہ زور لگا لو، ہم جبر سہہ لیں گے مگرجھکیں گے نہیں۔ کئی حکمران آئے اور چلے گئے، مگر متاثرین آج بھی یہاں موجود ہیں اور اپنے حق کیلیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرین اسلام آباد کے حقوق کا بہر صورت تحفظ کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد متاثرین ا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔