کراچی: گل پلازہ میں آگ لگ گئی ، 6 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد کے مصروف ترین تجارتی مرکز صدر ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی میزنائن فلور پر لگنے والی آگ نے ہولناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں اب تک 6 افراد زخمی ہو چکے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ عمارت میں مزید افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔ایدھی فاؤنڈیشن، ریسکیو 1122، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے۔ ایدھی کے رضاکار عمارت میں پھنسے دیگر افراد کو نکالنے کے لیے سرگرم ہیں، تاہم دھوئیں اور آگ کی شدت کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق فائر بریگیڈ کی 8 سے زائد گاڑیاں اور سنارکل** آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں۔آگ کی شدت زیادہ ہے، جس پر قابو پانے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ابتدائی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے مدد طلب کر لی ہے۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جائے وقوعہ پر واٹر ٹینکرز روانہ کر دیے گئے ہیں تاکہ فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی دستیاب ہو سکے۔ فوکل پرسن شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں جبکہ انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو مسلسل رابطے میں ہیں۔رینجرز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر عام شہریوں کا داخلہ بند کر دیا ہے تاکہ امدادی ٹیموں کو کام میں رکاوٹ نہ ہو۔ ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واٹر کارپوریشن اور ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور آگ پر مکمل قابو پانے تک آپریشن جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔