data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260118-08-25

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) کراچی پولیس نے بچوں سے زیادتی کے لرزہ خیز مقدمات میں ملوث انتہائی مطلوب گروہ کو گرفتار کر کے شہر میں پھیلی خوف و ہراس کی لہر کا خاتمہ کر دیا۔100سے زاید بچوں کو نشانہ بنانے والے سفاک ملزمان کی گرفتاری پر آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو مثالی قرار دیتے ہوئے بھاری نقد انعامات اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔ انتہائی مطلوب اور سفاک ملزم عمران کو اس کے ساتھی وقاص خان سمیت گرفتار کر لیا گیا ۔ ملزم پر 100 سے زاید بچوں کے ساتھ زیادتی کا سنگین الزام ہے، جس کا اس نے اعتراف
بھی کر لیا۔ ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق پولیس ٹیم نے ٹیپو سلطان کے علاقے میں ایک متاثرہ بچے کی نشاندہی پر چھاپہ مار کر مرکزی ملزم عمران اور اس کے سہولت کار وقاص خان کو حراست میں لیا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے 6 جنوری کو ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی، جس نے محض 11 روز کی محنت کے بعد ان ملزمان کو قانون کے شکنجے میں جکڑا۔ ایس پی انویسٹی گیشن نے انکشاف کیا کہ شکایات کا اندراج 2020ء سے 2025ء کے دوران پولیس کو بچوں سے زیادتی کی7 مختلف شکایات موصول ہوئی تھیں۔ تمام کیسز میں جب ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تو رپورٹ میں ایک ہی شخص کا ڈی این اے سامنے آیا، جس نے پولیس حکام کو چونکا دیا۔ نشانہ بننے والے تمام بچوں کی عمریں 12 سے 13 سال کے درمیان ہیں۔ اب تک 3 کیسز میں بچوں نے ملزم عمران کو شناخت کر لیا ہے، جبکہ ایک کیس میں بچے نے عمران اور وقاص دونوں کو پہچان لیا ہے۔گرفتار مرکزی ملزم عمران، جو منظور کالونی کا رہائشی ہے اور پنکچر کا ٹھیلہ لگاتا ہے، نے ابتدائی تفتیش میں دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ اس نے 6 سال میں درجنوں بچوں سے زیادتی کا اعتراف کر لیا ہے، عمران نے تمام بچوں کو ملیر ندی کے قریب لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عمران بچوں کو موٹر سائیکل پر سواری کرانے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جاتا تھا اور ملیر ندی کے قریب ویران جگہوں پر لے جا کر انہیں درندگی کا نشانہ بناتا تھا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ درج شدہ تمام 7 مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے، اور 3 کیسز میں بچوں نے ملزم عمران کو شناخت کر لیا ہے،ایک واقعے میں ملزم بچے کو اپنے ساتھی وقاص کے ہمراہ سرجانی ٹاؤن بھی لے گیا تھا، اس وقت بچے نے شور مچایا تو دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی پولیس کی انویسٹی گیشن ٹیم کو اس تاریخی کامیابی پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت، مسلسل محنت اور جدید تفتیشی طریقہ کار کا شاندار ثبوت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈی آئی جی انوسٹی گیشنز کراچی، سی آئی اے اور ایس پی انوسٹی گیشن ایسٹ پر مشتمل ٹیم کو تعریفی اسناد اور کیش ریورڈ سے نوازا جائے گا۔ آئی جی سندھ نے حکم دیا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کر کے اس گھناؤنے کیس میں ملوث تمام کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے اس کارروائی کو پولیس کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے پولیس پارٹی کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی کرنے والے ملزم کو محمودآباد پولیس نے عدالت میں پیش کردیا، عدالت نے ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے ملزم عمران کو مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں تفتیشی افسر کاکہنا تھا کہ مغوی بچے کے شور کرنے پر لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، ملزم کے خلاف محمود آباد ، ٹیپو سلطان ، ڈیفنس اور کورنگی انڈسٹریل ایریا اور دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بچوں سے زیادتی ملزم عمران کو زیادتی کا پولیس کی لیا ہے ایس پی کر لیا

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار