رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی:
ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مضبوط ہونے اورافراط زرکی شرح قابو میں سے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود مزید گھٹنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، اسٹیٹ بینک رواں سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان 26 جنوری کو کرے گا۔
مقامی تحقیقی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں 80 فیصد شرکا نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں مزید کمی کی توقعات کا اظہارکیا ہے، کوکم کرے گا۔
ریسرچ ادارے کے سروے میں 56 فیصد شرکا نے پالیسی ریٹ میں میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کا اظہارکیا ہے،جبکہ 15فیصد شرکاکاموقف ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سودمیں ایک فیصدکمی کرے گا۔
سروے کے 20فیصد شرکا نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کاامکان ظاہرکیا ہے جبکہ 5فیصد شرکا نے شرح سودمیں 25 بیسز پوائنٹس کی کمی کی رائے دی ہے۔
سروے کے صرف 3فیصد شرکا نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 75 بیسز پوائنٹس کم ہونے کی توقعات کااظہارکیاہے، واضح رہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 15دسمبر کو 50بیسز پوائنٹس شرح سودکم کی تھی۔
سروے کے 49فیصد شرکانے جون 2026 تک شرح سود 10فیصد پر برقراررہنے کی رائے دی ہے، جبکہ 46فیصد شرکا نے جون 2026 تک شرح سود 10فیصد سے کم ہونے کی رائے دی ہے۔
سروے رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ روپے کی قدر میں تسلسل سے بہتری، ترسیلات زر کا بڑھنا، مہنگائی میں کمی، شرح سودکو 10.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی شرکا نے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔