آئين ایک وعدہ ہے ، اسے توڑا گیا تو رشتے خراب ہوں گے، اپوزيشن لیڈر محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین ایک اجتماعی وعدہ ہے، اور اگر اس وعدے کی خلاف ورزی کی گئی تو تعلقات خراب ہو جائیں گے۔
جامشورو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی غیرانسانی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانی میں تمام طبقات کی شمولیت اور تمام زبانوں کے احترام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خارجہ پالیسی پارلیمنٹ کے ذریعے مرتب کی جائے اور خطے کی صورتحال پر مشاورت کے لیے ایک گول میز کانفرنس منعقد کی جائے۔
محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر زور دیا کہ آئین ایک وعدہ ہے، اور اس کی پامالی سے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔
بعد ازاں حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نظام میں موجود کھوٹے سکوں کو نکالنے کے لیے ایک منظم تحریک کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام خود درست ہے، مگر اسے چلانے کی نیت موجود نہیں۔ اگر ملک کے تمام قوموں کو فیصلوں میں شریک کیا جائے تو ملک بخوبی چل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین روزہ گول میز کانفرنس کے ذریعے سب کی بات سنی جائے اور مل بیٹھ کر ملک کو درست سمت میں لے جایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف گالی گلوچ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ساتھ ان کا تعلق محض چند کپ چائے تک محدود ہے، اور جب وہ آئیں گے تو وہ خود انہیں چائے پیش کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔