WE News:
2026-07-24@04:51:35 GMT

گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو ایک بار پھر فائر سیفٹی کے سنگین مسائل کی یاد دلا دی۔ گراؤنڈ فلور سے بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا، جبکہ عمارت کے گرنے کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ گزشتہ روز شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ آگ گراؤنڈ فلور سے بھڑکی جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا، جبکہ عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ریسکیو حکام اور اسپتال ذرائع کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں اب تک 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی بنیادی وجہ دم گھٹنا بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال (سول ٹراما سینٹر) منتقل کیا گیا۔

آگ کس طرح پھیلی؟

ریسکیو حکام کے مطابق آگ پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فلور پر لگی، جو دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق آگ پر 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔

گراؤنڈ فلور پر موجود بیشتر دکانیں اور وہاں قائم گودام مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔ ان دکانوں میں درآمدی کپڑے، گارمنٹس اور پلاسٹک کا سامان موجود تھا، جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔

عمارت کو پہنچنے والا نقصان

آگ کی شدت کے باعث عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی حصوں کو شدید نقصان پہنچا۔ متاثرہ عمارت کے گرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاحال مالی نقصان کا حتمی تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔

ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن

آگ بجھانے کے لیے 18 فائر ٹینڈرز، اسنارکل اور واٹر باؤزرز نے حصہ لیا۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر کئی افراد پھنس گئے تھے، جنہیں ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں نے نکالنے کی کوششیں کیں۔

امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے تبت چوک سے گارڈن تک ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔

آگ لگنے کی ممکنہ وجہ اور تحقیقات

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم سندھ حکومت نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

کراچی گل پلازہ گل پلازہ آگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کراچی گل پلازہ گل پلازہ ا گ گراؤنڈ فلور گل پلازہ عمارت کے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ