جنگی محاذ پر کامیابی کی ضمانت، پاک افواج کی ملٹی ڈومین آپریشن کیلئے بھرپور تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
راولپنڈی؍ واشنگٹن (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ) کثیرالجہتی ماحول میں فوجی فارمیشنز کی کثیرالمجالی کارروائیاں (ملٹی ڈومین آپریشن) زمینی، فضائی، سائبر، الیکٹرانک وارفیئر، خودکار نظاموں اور اطلاعاتی کارروائیوں کو ایک متحد جنگی میدان میں مربوط کرتی ہیں۔ جہاں ہر سینسر ہر شوٹر سے منسلک ہوتا ہے۔ ہر اقدام اس انداز سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ وہ اگلے مرحلے کی تشکیل کرے۔ حرکی جنگ، سپیکٹرم پر غلبہ، انتہائی درست فائر پاور اور کثیر سطحی فضائی دفاع کو یکجا کر کے مجموعی اور فیصلہ کن اثرات پیدا کیے جاتے ہیں۔ روایتی قوت، ڈرونز اور ادراکی جنگ (Cognitive Warfare) کا یہ ہم آہنگ امتزاج دشمن کی فیصلہ سازی، کمانڈ و کنٹرول اور جنگی ہم آہنگی کو منظم انداز میں کمزور کر دیتا ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابقجنگی محاذ پر کامیابی کی ضمانت، پاک افواج کی ملٹی ڈومین آپریشنز کے لئے بھرپور تیاریاں، ای وار فیئر کی مشترکہ حکمت عملی، فضائی، زمینی، سائبر آپریشنز، تباہ کن بمباری سے دشمن کی فیصلہ سازی مفلوج، فضائی، دور مار ہتھیار، ڈرونز کا اہم آہنگ استعمال کرکے نقل و حرکت ناممکن بنا دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ مشق انسپائرڈ گیمبٹ کو دفاعی تعلقات میں نئی جہت قرار دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق رواں ہفتے امریکی اور پاکستانی فوج نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر پبی میں مشق انسپائرڈ گیمبٹ کے دوران تربیت مکمل کی۔ اس مشترکہ مشق میں انفنٹری کی مہارتوں، جدید حکمتِ عملیوں اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ مشق نے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور عملی تعاون کو مزید مضبوط کیا۔ واضح رہے انسپائرڈ گیمبٹ 2026ء مشق 8 سے 16 جنوری 2026ء تک منعقد کی گئی۔ 2 ہفتے پر مشتمل مشق میں انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ انسپائرڈ گیمبٹ 1995ء سے جاری دوطرفہ تربیتی سلسلے کی 13ویں کڑی ہے۔ امریکہ اور پاکستان کی یہ مشترکہ تربیتی مشقیں دیرینہ دفاعی تعلقات کا مظہر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انسپائرڈ گیمبٹ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔