Jasarat News:
2026-06-02@22:32:21 GMT

امارات: حوثیوں کے حملے کی یاد میں جنگی طیاروں کا جلوس

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں جنگی جہازوں کے فضائی جلوس کا انعقاد کیا گیا جو امارات پر حوثی باغیوں کے حملے کی یاد میں ترتیب دیا گیا ۔فضائی جلوس میں جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل تھے جنہوں نے ملک بھر میں پرواز کی۔ اس سے قبل دبئی کے ولی عہد، نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ہفتے کے روز صبح 11 بجے اماراتی قومی ترانے کی آواز پر یکجہتی کا اظہار کریں۔ یہ فضائی جلوس خاص طور پر اس حملے کی یاد میں منعقد کیا جا رہا ہے جس میں حوثی باغیوں نے 4سال قبل عرب امارات کو میزائلوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 3افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک پاکستانی محنت کش معمور خان بھی شامل تھے، جو اس حملے میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔ فضائی جلوس ابوظبی سے شروع ہوا اور متحدہ عرب امارات کی تمام ریاستوں سے گزرا۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فضائی جلوس

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا