WE News:
2026-06-03@01:14:08 GMT

2026  میں بلڈ مون کب اور کہاں دیکھا جا سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

ستاروں کے شوقین مارچ 2026 میں آنے والے بلڈ مون کا مشاہدہ کر سکیں گے، جب زمین کی چھایا پوری طرح مکمل چاند کو ڈھانپے گی اور چاند کی سطح گہرا سرخ یا تانبی رنگ اختیار کر لے گی۔ یہ شاندار منظر آسمان دیکھنے والوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں ’بلڈ مون‘ کا نظارہ کب کیا جاسکے گا؟

بلڈ مون اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ مکمل قمری گرہن کے دوران زمین کا ماحول سورج کی روشنی کو فلٹر کرتا ہے اور نیلی روشنی کو منتشر کر دیتا ہے، جس سے چاند سرخ یا تانبی رنگ کا نظر آتا ہے۔ تاریخی مشاہدات کے مطابق تقریباً 29 فیصد قمری گرہن مکمل ہوتے ہیں اور زمین پر سالانہ تقریباً دو قمری گرہن دیکھنے کو ملتے ہیں۔

2026 کا بلڈ مون

اگلا بلڈ مون مارچ 2026 میں ہوگا اور شمالی امریکہ کے آسمان دیکھنے والوں کے لیے نمایاں طور پر دکھائی دے گا۔ یہ زمین پر ہونے والا آخری مکمل قمری گرہن ہوگا جسے اگلے سال تک دیکھا نہیں جا سکے گا۔

بلڈ مون کا حقیقی رنگ فضائی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ آتش فشاں کی راکھ، جنگلات کی آگ سے دھواں اور گرد و غبار کی موجودگی اسے زیادہ گہرا اور شدید سرخ دکھا سکتی ہے۔ ناسا کے مطابق ہر سال دو سے چار قمری گرہن ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک تقریباً زمین کے نصف حصے سے دیکھا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قمری گرہن مون بلڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مون بلڈ بلڈ مون

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ