کراچی:گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا، اہل خانہ پریشان
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا میں گزشتہ رات آگ لگنے کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
لاپتا افراد کے اہلخانہ مختلف اسپتالوں میں اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف ہیں، لاپتا افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے رات تک رابطہ تھا لیکن اب فون بند ہیں۔
سول اسپتال کے برنس سینٹر کے باہر بھی متاثرہ افراد کے اہلخانہ کی بڑی تعداد موجود، اہلخانہ کے مطابق خدشہ ہے کہ کئی افراد اب بھی عمارت کے اندر موجود ہوں۔
شوگر کے مریضوں کیلئےکم کیلوریز والی قدرتی شکر تیار
خیال رہے کہ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی آگ پر قابو نہ پایا جاسکا، آگ کی شدت سے گل پلازہ کے کچھ حصے گر گئے۔
ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہےکہ آگ لگنے کے باعث ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 20افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ، ان کی حالت بھی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
بجلی چوری کی روک تھام کیلئے میگا پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ
جاں بحق افراد میں سے 4 کی شناخت فراز،کاشف ،عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی ہے جبکہ حکام کے مطابق فرقان نامی فائر فائٹر کی لاش بھی ٹرمام سینٹر لائی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
کراچی:سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔
سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد
سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی
تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔