خوشاب: بڑی بہن نے فائرنگ کرکے چھوٹی بہن کو قتل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
خوشاب کے علاقے جوڑاکلاں میں ایک افسوسناک واقعے میں بڑی بہن نے فائرنگ کرکے اپنی چھوٹی بہن کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ پولیس نے لاش اسپتال منتقل کر دی ہے جبکہ ملزمہ کی تلاش کی جا رہی ہے، اور ابھی تک قتل کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:بیوی کو گلا دبا کر قتل کرنے والا شوہر خود گرفتاری دینے تھانے پہنچ گیا
خوشاب کے علاقے جوڑاکلاں میں آج ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں بڑی بہن نے فائرنگ کر کے اپنی چھوٹی بہن کو قتل کر دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے مقتولہ کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا ہے جبکہ ملزمہ کو تلاش کرنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم تاحال قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
پولیس تفتیش کر رہی ہے اور علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ ملزمہ کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔ اہلِ علاقہ اور مقتولہ کے رشتہ دار واقعے پر سخت صدمے اور دکھ کا ظہار کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خوشاب خوشاب قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خوشاب قتل
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔