پاکستان کے غریب مزید غریب، عوام کی حقیقی آمدن میں 12.2 فیصد کمی ہوئی، مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان کے غریب ترین 20 فیصد لوگ 2018-19 کے مقابلے میں اوسطاً 18 فیصد مزید غریب ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایک عام پاکستانی کی حقیقی آمدن میں 12.2 فیصد کمی آ چکی ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمفتاح اسماعیل نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان کے اپنے جاری کردہ دو بڑے سرویز ، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے ، پر مبنی ہیں، جن پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔
مالا کنڈ میں بیوی نے شوہر کو قتل کرکے لاش گھر کے صحن میں دفنا دی
انہوں نے کہا کہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے میں 2018-19 اور 2024-25 کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں عوام کی خریداری کی طاقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شہری علاقوں میں غریب ترین طبقہ 22 سے 23 فیصد مزید غریب ہو چکا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہی طبقہ تقریباً 19 فیصد مزید غربت کا شکار ہوا ہے۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق لیبر انکم سروے ظاہر کرتا ہے کہ آج پاکستانیوں کی آمدن عملی طور پر 2010 کی سطح پر کھڑی ہے، اور اگر کہیں معمولی اضافہ نظر آتا بھی ہے تو وہ 2013-14 کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کے بعد انفلیشن ایڈجسٹڈ حقیقی آمدن مسلسل نیچے جا رہی ہے، جبکہ 2023 میں فروری، مارچ اور اپریل کے دوران مہنگائی تقریباً 36 فیصد تک پہنچ گئی، جو ملکی تاریخ میں ایک خطرناک ریکارڈ ہے۔
غزہ بورڈ کی تشکیل پر اسرائیل کا مؤقف آ گیا
غذائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستانی عوام کی خوراک میں واضح کمی آ چکی ہے۔ تیل، آٹا، چاول، روٹی، انڈے، گوشت اور چکن ، ہر چیز کی کھپت 2018-19 کے مقابلے میں 2024-25 میں کم ہو گئی ہے کیونکہ عوام افورڈ نہیں کر پا رہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 2018-19 میں ایک پاکستانی اوسطاً ماہانہ 4 انڈے کھاتا تھا، یعنی ہفتے میں ایک انڈا، مگر اب یہ تعداد کم ہو کر 2.
سہیل آفریدی نے باجوڑ میں حالیہ آپریشن میں جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کیلئے رقم ایک لاکھ 60 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کا اعلان کردیا
گوشت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک پاکستانی کو پورے مہینے میں اوسطاً صرف 50 گرام مٹن اور 110 گرام بیف میسر آتی ہے، جو غذائی قلت اور قوتِ خرید میں شدید کمی کا واضح ثبوت ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستان ایک سنگین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں مہنگائی، آمدن میں کمی اور غذائی قلت نے عوام، خاص طور پر غریب طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل نے نے کہا کہ انہوں نے میں ایک
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے