بنگلا دیش کے سخت موقف پر پاکستان کو بھی ورلڈ کپ منصوبوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کو لے کر سنگین صورت حال سامنے آ گئی ہے جس میں دونوں ممالک کے موقف نے کرکٹ حکام کو مشکل انتخاب پر مجبور کر دیا۔
بنگلا دیشی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے بھارت میں میچز نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنی ٹیم کے بھارت نہ جانے پر سخت موقف اختیار کیا۔
بنگلا دیش نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ ان کے میچز سری لنکا یا دیگر محفوظ مقام پر منتقل کیے جائیں۔ اس تناؤ کے پیچھے بنگلا دیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے نکالے جانے کا واقعہ بھی اثر انداز ہو رہا ہے جس کے بعد بی سی بی اور حکومت نے سخت موقف اپنایا۔
پاکستان نے اس معاملے میں بنگلا دیش کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ کسی ملک کو دوسرے ملک پر دباؤ ڈالنے یا ڈرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیںٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: بنگلا دیش کے بھارت نہ جانے کے معاملے پر برف پگھلنے لگی
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بنگلا دیش کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان بھی ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنی شرکت پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے جو مسئلے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
آئی سی سی بھی صورتحال کو سنبھالنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے حکام سے بات چیت بھی ہو رہی ہے تاکہ اختلافات کو ختم کیا جا سکے اور ورلڈ کپ کی میزبانی متاثر نہ ہو۔
یہ صورتحال نہ صرف کرکٹ کے شیڈول بلکہ خطّے کے سیاسی اور سفارتی تعلقات پر بھی اثر ڈال رہی ہے کیونکہ ورلڈ کپ کے آغاز میں چند ہفتوں سے بھی کم وقت باقی ہے اور ٹورنامنٹ 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونے والا ہے۔
اگرچہ آئی سی سی نے سیکیورٹی معاملات کا جائزہ لیا ہے، بنگلا دیشی ٹیم کا موقف برقرار ہے اور آئندہ فیصلوں کے لیے بورڈ اور آئی سی سی کے درمیان باہمی مشاورت ضروری ہو گئی ہے تاکہ ورلڈ کپ کے شیڈول میں ممکنہ خلل کو روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش ورلڈ کپ ہے اور
پڑھیں:
پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ہمسایہ ملک دہشتگرد عناصر کو وسائل فراہم کر رہا ہے، ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت اسے دوبارہ فروغ دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ صوبے کی قیادت نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر وفاق کی مضبوطی کے لیے کردار ادا کیا۔
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کے درمیان طویل فاصلے ہونے کے باعث ترقیاتی وسائل کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہے، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا، جبکہ دیگر تینوں صوبوں نے بھی بلوچستان کا بھرپور ساتھ دیا، جو کسی احسان کے بجائے بھائی چارے کی مثال ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی صوبے کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے اور وسائل مختص کیے گئے، پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیے ریکارڈ فنڈز جاری کیے ہیں۔
تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے 75 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے کا حصہ ڈالا، کراچی سے چمن تک دورویہ شاہراہ کی تعمیر جاری ہے، جس پر 300 ارب روپے لاگت آئے گی اور منصوبہ آئندہ دو برس میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، 2018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور ان کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے۔
وزیراعظم نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جبکہ افغان حکومت دہشتگرد عناصر کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور معرکۂ حق میں دشمن کو شکست فاش دی، خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
پشاور ؛ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی لڑکے کا قتل، مقدمہ درج
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کو معاشی ترقی کی دوڑ میں آگے لے جایا جائے اور قومی خوشحالی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے۔