گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے بعد لاپتہ ہونے والوں میں میاں، بیوی اور نوعمر بیٹا بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی:
ایم اے جناح روڈ پر قائم گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے بعد لاپتہ ہونے والے میں میاں ، بیوی او نوعمر بیٹا بھی شامل ہے جبکہ لاپتہ ہونے والوں میں سکھر کا شہری بھی شامل ہے ، گل پلازہ کی عمارت میں موجود ایک شخص کا اپنے پیاروں کو بھیجا گیا وائس میسج بھی سامنے آیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے باعث ہونے تباہی کے بعد لاپتہ افراد کے حوالے سے بھی معلومات سامنے آرہی ہے اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ گلشن اقبال کی رہائشی فیملی بھی اس وقت گل پلازہ میں موجود تھی جب وہاں آگ بھڑک اٹھی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شکل اختیار کرلی۔
متاثرہ فیملی میں عمر نبیل ، عائشہ سمیع اور ان کا نوعمر بیٹا علی بن عمر بھی ساتھ تھا جو کہ خریداری کی غرض سے گل پلازہ گئے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ لاپتہ فیملی آنے والے بچے کی پیدائش سے قبل اس کے لیے کپڑے خریدنے آئی تھی اور اس خوفناک آگ کے نتیجے میں تاحال لاپتہ ہے۔
اسی طرح گل پلازہ میں کراکری شاپ کا مالک ابوبکر بھی تاحال لاپتہ جبکہ اس کے ہمراہ ملازمین بھی تھے ، ابوبکر کے بیٹے تاج محمد نے بتایا کہ ہفتے کی رت دکان کے ملازم نے فون کر کے بتایا کہ والد صاحب بے ہوش ہوگئے ہیں اور گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ سے حالت بہت خراب ہیں۔
لاپتہ ابوبکر کے بیٹے نے بتایا کہ وہ ہفتے کی رات سے اس مقام پر موجود ہوں اور اب تک والد اور ان کے ملازمین کے حوالے سے کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
مزید پڑھیںگل پلازہ آمد پر لوگوں کی میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی
کراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا، اہل خانہ پریشان
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد لاپتہ ہونے والے میٹروول رہائشی 24 سالہ عارف کے اہلخانہ نے بتایا کہ عارف کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے ۔رات جب اس سے فون پر بات ہوئی تو عارف نے بتایا کہ وہ مسجد کی جانب ہے جس کے بعد سے اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ، گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سوشل میڈیا پر جہانزیب نامی شہری کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ بتا رہا ہے کہ اس کے بہنوئی محمد اطہر سکھر سے گھر کی خریداری کرنے کے لیے گل پلازہ گئے تھے جو کہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔
اطہر نے ہفتے کی شام کو آخری بار گھر کی خواتین سے کال پر بات کی تھی اور انھوں نے اہلخانہ کو بتایا تھا کہ یہاں آگ لگی ہے کچھ دکھائی نہیں دے رہا میری اور دیگر افراد کی خیریت کے لئے دعا کریں ، اطہر 4 بچوں کا باپ ہے۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران لاپتہ ہونے والے کریم آباد کے رہائشی آفتاب گل جو کہ گل پلازہ میں کام کرتا ہے۔ اس کا اہلخانہ کو شیئر کیا گیا وائس میسج بھی شوشل میڈیا پر آگیا جس میں آفتاب گل کا کہنا تھا کہ میں چاروں جانب سے پھنس چکا ہوں گل پلازہ میں بہت خطرناک آگ لگی ہے ، میرا نکلنا مشکل ہے ، مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا جبکہ وائس میسج میں پھنسے ہوئے پریشان حال دیگر افراد کی بھی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جس میں وہ دروازہ اور کھڑکی توڑنے کی بات کر رہے تھے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل پلازہ میں کے بعد لاپتہ ا تشزدگی کے نے بتایا کہ لاپتہ ہونے خوفناک ا نے والے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔