تھرپارکر، جو میں نے دیکھا۔۔۔۔
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
پاکستان کے جنوب مشرقی کونے میں واقع تھرپارکر، ایک منفرد اور رنگین علاقہ ہے جو ہر سیاح کو ایک بار لازمی دیکھنا چاہیے۔
آج کل ملک میں کڑاکے کی ٹھنڈ پڑ رہی ہے لیکن کچھ دن بعد دن کھل جائیں گے اور تھرپارکر جانے کے لیے یہ دن بہترین ہیں کیوںکہ مئی تا ستمبر اس خطے میں اچھی خاصی گرمی پڑتی ہے۔ ہلکی سردیوں میں نہ صرف موسم خوش گوار ہوتا ہے بلکہ تھر کی اصل خوبصورتی بھی پوری آب و تاب سے سامنے آتی ہے۔
ہم نے بھی گذشتہ سال کے اوائل دسمبر میں دوبارہ تھر دیکھنے کا پروگرام بنایا اور دو ماہ پہلے سے سب دوستوں کو چوکنا کر دیا ورنہ وقت پہ سب بھاگ جاتے ہیں۔
اس سفر میں ہم چھے لوگ شامل تھے۔ پروگرام کے مطابق سب سے پہلے پروفیسر کاشف علی صاحب (شعبہ تاریخ، یونیورسٹی آف گجرات) تیزگام ایکسپریس پر گجرات سے سوار ہوئے۔ اس کے بعد عمران احسان بھائی (معلم، محقق، فوٹوگرافر) اور عبدالوہاب (بزنس مین، فوٹوگرافر) نے گجرانوالہ سے انہیں جوائن کیا۔ لاہور پہنچنے پر شجاعت علی (میکاٹرونکس ڈیپارٹمنٹ، یو ای ٹی) و محمد شعیب ( محقق و تاریخ داں) بھی اس ٹرین پر سوار ہوئے۔ رات کو تیزگام جب خان پور پہنچی تو مابدولت نے ہمراہ عشائیہ ٹرین کو رونق بخشی اور ٹرپ کا کورم پورا ہوگیا۔
اگرچہ ہوٹل بکنگز ہوچکی تھیں اور آگے سفر کی گاڑیاں ہماری بُک تھیں لیکن ایک بار پھر دوستوں کو سارا پلان بتایا۔
الحمدللّہ، میرے پانچوں کے پانچوں ساتھی سفر کے حوالے سے بڑے تجربے کار ہیں اور ہر چیز کو سمجھتے ہیں تو معاملات فوراً سمجھ گئے۔
صبح کوئی ساڑھے آٹھ ، نو بجے ٹرین نے ہمیں حیدرآباد میں اتار دیا جہاں سے ہمارا سفر شروع ہونا تھا۔
پہلا دن
سب سے پہلے منان ہوٹل پر بھرپور ناشتہ کیا گیا جس نے لاہور کے ناشتے کو بھی مات دے دی۔ اس کے بعد ہم بُک کروائی گئی ہفت نشستی گاڑی پر مٹھی کی طرف روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے نوکوٹ کے قریب سید رضی شاہ درگاہ کا دورہ کیا۔ اس سے کچھ آگے قلعہ نوکوٹ واقع تھا۔ دو سو سال سے بھی زیادہ قدیم اس قلعے کو دیکھنے کے بعد شام تک ہم مٹھی پہنچ گئے۔
مِٹھی میں وہاں کا سب سے بڑا مندر شوالیہ مندر دیکھا، تب تک مغرب ہوچکی تھی۔ وہاں پر ایک ہندو جوڑے کی شادی بھی ہورہی تھی جس کی وجہ سے وقت زیادہ لگ گیا۔ کھانے کے لیے مشہور ڈائمنڈ ہوٹل پہنچے جہاں پنیر کے پکوانوں کی دعوت اڑائی۔ یہاں پنیر کے بہت لذیذ پکوان ملتے ہیں جیسے پالک پنیر، پنیر کڑاہی وغیرہ۔ مٹھی میں قیام کے لیے میں نے گاڈی بھٹ پر مونال ہوٹل بک کروایا تھا کہ اس جگہ کا اصل مزہ ہی اس کی رات کی وائب ہے۔ رات کے وقت مٹھی کا شان دار نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جسے دیکھنے شہر کے لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ بھرپور انجوائے کرنے کے بعد گیارہ بجے تک ہم سو گئے۔
دوسرا دن
گاڈی بھٹ سے ہم صبح روانہ ہوئے، ناشتہ وہیں مٹھی کے اس ہوٹل پر ہی کیا جو ہمارا پسندیدہ ہوٹل بن گیا تھا۔ ناشتے کے بعد ہم سب سے پہلے اسلام کوٹ پہنچے جہاں سنت نینو رام آشرم اور اس کے قریب ہنگلاج مندر کا دورہ کیا۔ یہ جگہ ایک کمپلیکس ہے جہاں مندر، سمادھیاں، ہالز اور بہت کچھ ایک ہی جگہ واقع ہے سو وقت زیادہ لگ گیا۔ یہاں بھی دو تین شادیاں ہورہی تھیں۔ اس کے بعد گوری کا قدیم جین مندر اور گاؤں کے گھر دیکھے۔ پھر بھالوہ گاؤں میں ماروی کا کنواں تھا جہاں ہم نے زیادہ ٹائم نہیں ضائع کیا اور اس کے آگے ویراواہ کے جین مندر پہ پہنچ گئے۔
کاجل جھیل کے کنارے واقع ویرا ہوا کا جین مندر کیوںکہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا سو یہاں پر ہم نے آرام سے ایک سوا ایک گھنٹہ گزارا اور اسی گاڑی پر ہم جا پہنچے بھوڈیسر میں واقع کارونجھر گیسٹ ہاؤس۔ یہاں چیک ان کیا، فریش ہوئے اور اسی گاڑی پر ہم بھوڈیسر کی مسجد جا پہنچے۔ گاڑی کو الوداع کیا اور قریب قریب واقع اس کمپلیکس کو پیدل دیکھا۔
مغرب ہونے کو تھی اور ہمارے پاس وقت کم تھا سو یہاں پر ہم سب پھیل گئے۔ ہر بندے نے اپنے حساب سے ان چار مانومنٹس کو کور کیا جن میں ایک مسجد اور تین مندر شامل ہیں۔ جین مندر ایک دو اور تین کو ڈاکومنٹ کرتے کرتے سورج چھپ گیا۔ مغرب سے پہلے پہلے ہمارے تینوں مندر کور ہوچکے تھے۔ یہیں پر ہمیں سندھ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہلکار ملا جس نے بتایا کہ یہاں قریب ایک اور ہندو مندر ہے۔ اس کے ساتھ ہم گئے تو ایک پرانے پتھر سمیت ہمیں ایک اور مندر دکھایا۔
اسی طرف ایک روشنی نظر آئی تو ہم وہاں چل دیئے۔ معلوم ہوا یہ ’’لاہوتی آشرم‘‘ ہے جو ہماری لسٹ میں بھی شامل تھا۔ یہ اس دن کی ہماری آخری اٹریکشن تھا جہاں پہنچتے ہمیں رات ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ہم گیسٹ ہاؤس آئے، کھانے اور نماز کے بعد چائے پی اور سوگئے۔
اگلے دن کے لیے جیپ اسی رات بک کروا لی گئی تھی۔
تیسرا دن
تیسرے دن صبح اٹھے ناشتہ وہیں گیسٹ ہاؤس میں کیا تیار ہوئے اور جیپ میں سوار ہوگئے۔ پہلے نگرپارکر کے مشرق میں واقع رنپور ڈیم کی جھیل پر رکے اور پھر اسی جیب پر ہم چوڑیو مندر پہنچے جو پاکستان بھارت کی سرحد پر رن آف کچھ کے ساتھ تھا۔ یہ مندر تین طرف سے بھارت میں گھرا ہوا ہے۔ چوڑیو مندر کیوںکہ ہماری اس دن کی مین ہائی لائٹ تھا سو اس کو ہم نے تسلی سے دیکھا۔
اس کے بعد صحرا کے اندر ہی اندر چِتراسر اور سُوراچند گاؤں سے ہوتے ہوئے ہم کاسبو جا پہنچے۔ جنوب کا آخری علاقہ کاسبو، موروں کا گھر کہلاتا ہے۔ یہاں پہ راما پیر کا مندر واقع ہے۔ کاسبو اور نگرپارکر میں مسکین جہان خان کھوسو عجائب گھر سے ہوکے جین مندر پہنچے۔ جین مندر کی بہترین عکاسی کرنے کے بعد قریب ہی ایک دیسی ہوٹل پر ہم نے چائے پی اور واپس اپنے گیسٹ ہاؤس پہنچے۔
چوںکہ میں چاہتا تھا کہ کم وقت میں اپنے دوستوں کو زیادہ سے زیادہ تجربات کروا دوں تو ہم نے اس دن کے لیے روپلو کولہی ریزورٹ میں بکنگ کروا رکھی تھی۔ یہاں سے ہم نے اپنا سامان سمیٹا چیک آؤٹ کیا اور رکشہ کروا کے روپلو پہنچے جو یہاں سے قریب ہی تھا۔
یہ تھرپارکر میں سندھ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کا شان دار ریزاٹ ہے جس کے ریٹس بھی مناسب ہیں۔
فریش ہونے کے بعد یہیں پر ڈنر کیا اور چائے پی۔ کافی دیر تک تھر کی ہلکی سی خنکی میں گپ شپ کی اور اگلے دن کی پلاننگ کرکے سو گئے۔
چوتھا دن
اس کے بعد اگلے دن صبح اٹھے تیار ہوئے اور چائے کا آرڈر دے کر بیٹھ گئے۔
چائے ابھی بن ہی رہی تھی کہ سامنے مٹھی کی بس گزری۔ اس کے بعد دوسری بس چوںکہ لیٹ تھی تو ہم نے اسی بس کو پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ جلد سے جلد بل کلیئر کیا اور بھاگم بھاگ اس پر سامان رکھا اور بیٹھ گئے۔ اس دوران میری چائے رہ گئی جس کا افسوس رہے گا، اس کے بغیر ہوش جو نہیں آتا۔
صبح ساڑھے سات بس وہاں سے نکلی اور ٹھیک ساڑھے دس بجے اس نے ہمیں مِٹھی پہنچا دیا۔ مٹھی کے اڈے پر ہی ہم نے دستی عمر کوٹ کے لیے اے سی (وہاں گرمی تھی) گاڑی بک کروالی اور اپنے پسندیدہ ہوٹل پر آئے۔ پنیر کڑاہی اور پالک پنیر سے آخری بار انصاف کیا اور عمر کوٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔
یہاں سے عمر کاٹ کی سڑک صحرا میں سے گزرتی تھی اس سفر کو تمام دوستوں نے خوب انجوائے کیا۔
عمرکوٹ میں ہم نے غوثیہ ریسٹ ہاؤس بک کروا رکھا تھا جو بہت شان دار تھا۔ میرے مطابق قیام کے حوالے سے ہمارے ٹرپ کی سب سے زبردست جگہ یہی تھی جہاں ایک جدید طرز کے گوپہ (جسے مقامی گل جی کہتے ہیں) نما کمرے میں ہم رہائش پذیر تھے۔ فریش ہوئے اور اسی گاڑی والے کے ساتھ عمرکوٹ قلعہ پہنچ گئے۔ قلعہ عمرکوٹ اور اندر واقع میوزیم دیکھنے کے بعد اکبر کی جائے پیدائش پہنچے اور راستے میں آنے والی عبدالرحیم گرہوڑی لائبریری کا وزٹ کیا جس کے بعد شہر سے کوئی پانچ کلومیٹر دور واقع سیو مندر جا پہنچے۔ یہاں بھی ہمیں کچھ دولہے مل گئے۔ تھر میں یہ موسم شادیوں کا موسم ہوتا ہے سو ہر سو دولہوں کی بہار تھی۔ مندر کی ڈاکومنٹیشن کرتے کرتے مغرب ہوگئی۔
مغرب کے بعد ہم عمر کوٹ پہنچے۔ چوک میں ہی ایک دیسی ہوٹل سے لذیذ کھانا کھایا اور پیدل چل کے اپنے ریسٹ ہاؤس پہنچ گئے جو زیادہ دور نہیں تھا۔
یہاں ہمیں اپنے سفر کی سب سے زیادہ ٹھنڈی رات ملی۔
پانچواں دن
اگلا دن ہمارے لیے سب سے مشکل تھا کیوںکہ اس کی پلاننگ حتمی نہیں تھی۔
اس دن کے لیے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم تھر میں ٹرین کا سفر کریں گے اور دھورو نارو سے ماروی ایکسپریس پر میرپورخاص جائیں گے۔ ہمیں عمرکوٹ کے قریب جو اسٹیشن پڑ رہا تھا وہ دھورونارو تھا جو بتیس کلومیٹر دور تھا۔ وہاں پہنچنا اور ٹرین وقت پر پکڑنا دوستوں کی تیزرفتاری اور ہماری قسمت پر منحصر تھا۔ سو صبح صبح سب کو اٹھایا، جلدی سے تیار ہوئے اور اللّہ کا نام لے کر نکل پڑے۔ اڈے پر پہنچے تو نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ ایک سوزوکی والے سے فوراً تین ہزار میں بات ڈن کی اور عمرکوٹ سے لگ بھگ چالیس منٹ دور شمال مغرب میں دھوڑونارو پہنچ گئے۔ سارا راستہ میں دعا کرتا آیا کہ ٹرین لیٹ ہوجائے لیکن شاید تاریخ میں پہلی بار کوئی پاکستانی ٹرین بالکل وقت پر پہنچ رہی تھی۔
ابھی ہم اسٹیشن پر پہنچے ہی تھے کہ ماروی ایکسپریس کی سیٹی کی آواز آئی۔ ہمارے وزیرخزانہ عبدالوہاب نے فوراً ٹکٹ لیے اور ہم ٹرین پر سوار ہوگئے۔ اس وقت احساس ہوا کہ انسان اگر دل سے کچھ کرنا چاہے اور کوشش کرے تو کچھ بھی ممکن ہے۔
دھورو نارو سمیت مختلف تاریخی اسٹیشن دیکھے جن میں پتھارو، عبداللّہ آباد، بلوچ آباد اور جمڑاؤ شامل ہیں۔
صبح ساڑھے دس بجے کے آس پاس ہم میرپورخاص پہنچے۔ اچھے طریقے سے ریلوے اسٹیشن کور کیا اور ناشتے کے بعد دستی سیون سیٹر بک کروا کے ہم نے میرپورخاص کے شمال میں واقع تالپوروں کے قبرستان کا راستہ ناپا۔ یہ چتوڑی میں واقع ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ وہاں پہ گزارنے کے بعد ہم میرپورخاص اور ٹنڈوالہ یار سے ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچے۔
حیدرآباد پہنچ کر ہم نے میرن جو قبا نامی تالپوروں کے مقبروں کا کمپلیکس وزٹ کیا جہاں ہمیں شام ہوگئی۔ اس کے بعد ہم ریلوے اسٹیشن کے پاس واقع اپنے ہوٹل میں آئے اور فریش ہوکر نماز پڑھی پھر ڈنر کو نکلے۔ رات کے کھانے کے لیے ہماری پسندیدہ ترین جگہ اسٹیشن کے پاس حیدرآباد کی بریانی تھی جس کے لیے سب دوست اتاؤلے ہورہے تھے۔
حیدرآباد کی مسالے دار بریانی سے بھرپور انصاف کرنے کے بعد ہمارے پاس وقت بچتا تھا تو ہم نے تاریخی بمبئی بیکری کا رخ کیا۔ وہاں سے مشہور کافی کیک خریدے اور اس کے بعد چائے پی۔
یہاں میرا سفر اختتام کو پہنچا۔ رات کی تیزگام، سیون اپ نے مجھے خان پور لا اتارا۔ بقیہ دوستوں نے اگلے روز شہداد پور، بھٹ شاہ، اور ہالہ گھومنے کے بعد رات اسی ٹرین پر واپسی کا قصد کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیسٹ ہاو س سب سے پہلے کے بعد ہم اس کے بعد پہنچ گئے میں واقع جا پہنچے ہوئے اور مندر کی کیا اور بک کروا چائے پی ہوٹل پر اور اس کے لیے
پڑھیں:
شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
کہتے ہیں راول پنڈی کا پہلا بازارِحُسن ستمبر 1851 میں اس وقت کھلا جب اس شہر کو باقاعدہ انگریزی چھاؤنی قرار دیا گیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بر صغیر میں رقص اور موسیقی کا نام آتے ہی لکھنؤ کی طوائفوں کا ذکر آتا ہے جہاں طوائف کے کوٹھے پر نواب صاحبان اور ان کی آل اولاد تہذیب اور زبان کی سیڑھیاں چڑھنے آیا کرتی تھے۔ اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ ماہ لقا بائی چندہ بھی ایک طوائف ہی تھی لیکن جب انگریز دور آیا تو طوائف کو عصمت فروش کہہ کر اس کی تذلیل کی گئی جس سے یہ طبقہ زوال پذیر ہوتا چلا گیا۔
راول پنڈی ویسے تو بہت قدیم ہے۔ پہلے یہ گاؤں تھا بعد میں قصبہ بنا لیکن شہر کی حیثیت سے اس کی تشکیل 18 صدی میں شروع ہوئی۔ تب یہ شہر قصبے سے شہر میں تبدیل ہونا شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی یہ جرنیلی سڑک پر عام پڑاؤ ہونے کی وجہ سے یہ تجارتی قافلوں کی ایک اہم سرائے بھی قرار پایا جس کی وجہ سے یہاں ناچ گانے کا رواج فروغ پانے لگا لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ پوٹھوہار میں ناچ گانے اور ناٹک وغیرہ ہزاروں سال سے ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ 300 قبل مسیح میں لکھی جانے والی کتب میں درج ہے کہ 480 قبل مسیح میں گوتم بدھ کے دو چیلوں نے ٹیکسلا میں ایک ناٹک دیکھا تھا جس میں سنگیت بھی ہوا کرتے تھے۔ پوٹھوہار میں ہونے والے سنگیت شاید اسی روایت کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
1814 میں رنجیت سنگھ نے راول پنڈی کو تختِ لاہور کے ماتحت کردیا لیکن مری اور ملحقہ پہاڑی علاقوں کے لوگوں نے مزاحمت کی، جس کی وجہ سے یہ علاقے کشمیر کے راجہ گلاب سنگھ کو بطورِ جاگیر دے دیے گئے۔ اس دور میں اگرچہ راول پنڈی لاہور کے ماتحت تھا لیکن یہاں گلاب سنگھ کا سکہ بھی چلتا تھا اور اسی کی نسبت سے راجہ بازار قائم ہوا۔ سردیوں میں کشمیر کے راجہ سمیت امراء راول پنڈی آکر ٹھہرتے تھے۔ سکھوں کے اقتدار کا خاتمہ اس وقت ہوا جب 14 مارچ 1849 کو سکھ فوج نے راولپنڈی کے قریب انگریز فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ کہا جاتا ہے کہ انگریز فوج نے شہر پر قبضہ کیا اور اس کی فوج لیاقت باغ میں خیمہ زن ہوئی۔ انھوں نے جنسی بھوک مٹانے کے لیے ایک طوفان برپا کر دیا۔
اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ستمبر 1851 میں جب یہاں فوجی چھاؤنی قائم کی گئی تو اس کے قریب ہی ایک قحبہ خانہ قائم کیا گیا، جو بعد میں یہاں سے منتقل کردیا گیا جہاں پہلے ہی شراب خانہ موجود تھا۔ انگریزوں نے یہاں طوائفوں کو کمرے بنا کر الاٹ کیے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران راول پنڈی میں دفاعی ضروریات کے پیشِ نظر دو ڈویژن فوج تعینات کی گئی جس کی وجہ سے اپریل 1915 میں نرن کاری بازار والے چکلے میں فوجیوں اور دلالوں میں لڑائی ہوگئی۔ فوجیوں نے دلالوں کو مار مار کر بھگا دیا۔ جب قحبہ خانے میں آئے دن لڑائیاں معمول بن گئیں تو مولوی عبدالحق نے ہندو اور سکھ برادریوں کے راہ نماؤں کا اجلاس طلب کیا اور قحبہ خانہ ختم کرانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی خواہش کا اظہار کیا مگر انھوں نے سردمہری دکھائی جس کی وجہ سے مسلمان راہ نماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی جو 1920 سے 1927 تک جدوجہد کرتی رہی۔ مقامی انتظامیہ کا موقف تھا کہ راولپنڈی کا قحبہ خانہ بند کرنے کا مطلب پورے ہندوستان کے قحبہ خانے بند کرنا ہے، اس لیے یہ مقامی انتظامیہ کے بجائے وائسرائے کا دائرۂ اختیار ہے۔
دوسرا اگر اسے بند کردیا گیا تو انگریز فوج گھروں میں داخل ہوکر شہر کا امن تباہ کردے گی۔ اس کمیٹی کی قیادت ایک صاحب منشی قائم دین کے پاس تھی، جنھیں ایک ہندو دلال کے ہاتھوں قتل کرادیا گیا۔ مسلمانوں نے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ پولیس کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ مسلمانوں نے مشتعل ہوکر نرن کاری بازار والے قحبہ خانے پر حملہ کردیا، جس ہندو دلال پر قتل کا الزام تھا اسے مار دیا اور طوائفوں پر تشدد کیا، جس کی وجہ سے وہ دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئیں۔
شدید احتجاج اور تصادم کی وجہ سے انتظامیہ نے یہ قحبہ خانہ رتہ امرال میں بیلیاں والی سرائے میں منتقل کردیا۔ اسی نسبت سے یہاں موجود ایک پل کو آج بھی ’’چکلہ پل‘‘ کہا جاتا ہے۔ رتہ امرال بھی ایک سکھ رتہ سنگھ کے نام سے منسوب ہے۔ اس زمانے میں طوائفوں کو جسم فروشی کے لائسنس پولیس کی جانب سے جاری کیے جاتے تھے۔
ایک وقت تھا کہ راجابازار میں کُھلے قحبہ خانے موجود تھے، جن میں سے نرن کاری بازار میں تھا جہاں رنڈیاں آنکھوں میں موٹا سرمہ ڈالے، ہونٹوں اور دانتوں پر دنداسے کے سرخ اور سیاہ نشان بنائے، بالوں میں سرسوں کا تیل لگائے، طاقچے پر لیمپ کے سامنے کرسی بچھائے ہوئے ہر راہ گزر کو ’’آؤ جی‘‘ کہتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں اور اسی طرح قصائی گلی میں گانے والیاں سرشام ہی سارنگی اور طبلے کے ساتھ تان اُڑایا کرتی تھیں۔ نرن کاری والے بازار اور رتہ امرال والے قحبہ خانوں کا ذکر اب تاریخ کی کتب میں بہت کم ملتا ہے لیکن راول پنڈی کا اصل بازار حُسن قصائی گلی کے نام سے مشہور ہے، جس کی رونق 1970 کی دہائی تک قائم رہی۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہاں کالو نامی قصاب کی دکان تھی جہاں چھوٹا گوشت ملتا تھا۔ سکھ دور میں گائے اور بھینس وغیرہ ذبح کرنا ممنوع تھا۔ انگریز دور تک سرِعام ذبیحے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے مسلمان ہر جمعرات کو مل جل کر ذبیحہ کرتے اور چھپ چھپا کر گوشت آپس میں تقسیم کرلیتے۔ قریب ہی ایک کھلا میدان تھا جہاں بانس فروخت کرنے کی منڈی تھی۔
اس منڈی کے باعث بازار کا نام بانسوں والا بازار مشہور ہوگیا۔ موچی بازار اور قصائی گلی بھی سکھ دور کے عہد میں بنی۔ قصائی گلی کے دونوں کونوں یعنی راجابازار کی جانب چھوٹے گوشت کی دکانیں تھیں جس کی وجہ سے یہ قصائی گلی کہلائی۔ سکھ دور میں بڑے گوشت پر پنجاب میں پابندی تھی۔ جب انگریزوں کے قبضے کے بعد پنجاب میں بڑے جانور کے ذبیحے کی اجازت ملی تو پنجاب بھر میں بڑے گوشت کی قصائی نہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں نے میرٹھ سے قریشی برادری کو لا کر یہاں آباد کیا۔ یہ گلی یعنی قصائی والی گلی رات کو آباد ہوتی اور دن یہاں بہت دیر سے نکلا کرتا تھا۔ یہاں سرشام ہی گانے اور گھنگھروں کی آوازیں سنائی دینے لگتی تھیں۔ اہل دل اپنا سب کچھ نچھاور کرکے جاتے۔ گلی کے باہر تانگے ہر وقت کھڑے رہتے جو یہاں آنے والوں کو واپس ان کے گھروں میں پہنچاتے۔ یہاں شادی بیاہ کے لیے دو معروف بینڈ بھی تھے جن میں سے ایک اسٹار آف انڈیا تھا، جس کے موسیقار سارا دن اردو، پنجابی اور انگریزی دھن بجاتے رہتے تھے۔ لوگ شادی بیاہ کے لیے اس بینڈ کی بکنگ کیا کرتے تھے۔
قصائی گلی کی رقاصہ صرف یہاں ہی رقص و سرور کی محفلیں نہیں سجاتی تھی بلکہ امراء خوشی کے مواقع پر انھیں اپنے گھروں میں بھی بلاتے تھے چوں کہ پوٹھوہار میں شادی بیاہ کی تقریبات مہینہ بھر جاری رہتی تھیں۔ اس لیے یہ رقاصائیں بھی اپنے ناچ گانے سے پورا مہینہ رونق دوبالا کرتی تھیں۔ بارات میں یہ رقاصائیں گھوڑے یا ہاتھی کے آگے آگے ناچتے ہوئے چلتی تھیں۔ جن پر لوگ پیسوں کی برسات کیا کرتے تھے۔ ماضی کی یہ روایت وقت کے تغیر کی نذر ہوگئی۔ تفریح کے معیار اور انداز بدل گئے۔
1990 تک یہاں گانا بجانا ہوتا تھا اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے یہاں گانے بجانے والیوں کو لائسنس دیے جاتے تھے جو جسم فروشی کے لیے نہیں ہوتے تھے۔ ان کے اوقات میں مقرر تھے جو شام 7 سے رات 10 بجے تک تھے۔ اس کے بعد پولیس آ کر سیٹیاں بجاتی تھی کہ ان کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ مقررہ اوقات میں لوگ ان کا مجرا سننے آ جاتے تھے لیکن پھر یہ لوگ بدلتے ہوئے وقت کی نذر ہوگئے۔ جن کے اپنے کوٹھے تھے، انھوں نے دکان داروں کے ہاتھوں فروخت کردیے اور جو کرائے پر تھیں وہ چھوڑ گئیں۔ سازندوں نے بھی اپنے پیشے بدل لئے۔ اب یہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کے دروازے ماضی کی جانب کھلتے ہیں۔
مرکزی جامع مسجد راول پنڈی
میں مسجد کے دروازے پر پہنچا تو وہاں تالا موجود تھا۔ عصر کی نماز ہونے میں ابھی کم از کم ایک گھنٹہ باقی تھا۔ بتلایا گیا کہ گیٹ کا تالا نماز سے پہلے نہیں کھلے گا۔ صبح کا ناشتہ بھی میں نے صرف چائے بسکٹ کے ساتھ ہی کیا تھا۔ اب بھوک میں شدت آنے لگی تھی۔ قریبی دکان سے میں نے کسی مناسب ہوٹل کے بارے میں پوچھا تو دکان دار بتلانے لگا کہ چند قدم آگے جا کر بائیں جانب ایک گلی مڑے گی، وہاں ایک ہوٹل موجود ہے آپ کو مناسب کھانا مل جائے گا۔ میں گلی کی کونے پر پہنچا تو وہاں ایک چھوٹی سی دکان تھی جہاں پر چند برتن پڑے تھے اور روٹیاں رکھی تھیں۔ بھوک کی شدت مجھے ستا رہی تھی۔ میں نے ان سے کھانے کا پوچھا تو ایک بڑا سا آدمی بتانے لگا کہ یہاں مفت کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔
آپ بھی بیٹھ جائیں۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ میں اسی دکان میں بیٹھ گیا۔ دکان کے اندر خادم حسین رضوی اور چند بزرگوں کی تصویریں لگی تھیں۔ میرا دماغ تو کسی مسلک کا پیروکار ہوسکتا ہے مگر یقین مانیں خالی پیٹ کا کوئی مسلک نہیں ہوتا۔ میں نے چپ چاپ کھانا کھانے میں ہی عافیت سمجھی۔ اگرچہ دال کے اندر نمک مرچ کافی تیز تھی مگر میں پھر بھی ایک روٹی کھا گیا۔ کھانے سے فراغت پانے کے بعد بھی میرے پاس ابھی بہت وقت تھا۔ میں مسجد کے دروازے پر پہنچ گیا اور مسجد کے دروازے سے ہی باہر سے جتنی فوٹوگرافی ممکن ہوسکتی تھی کرلی۔ مسجد کو باہر سے دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ تصاویر میں اس قدر خوب صورت نظر آنے والی نیلی مسجد کی باہر سے کوئی حالت نہ تھی۔
نقش و نگار تقریباً خراب ہوچکے تھے، گندگی الگ۔ پہلے پہل تو دل کیا کہ میں یہاں سے واپس چلے جاؤں مگر پھر سوچا کہ اگر اب اتنی دور آ ہی گیا ہوں تو بہتر یہی ہے کہ مسجد کو اندر سے بھی دیکھ لیا جائے۔ دروازے پر ہی انتظار کرتے کرتے عصر کا وقت ہوگیا۔ دروازہ کھلا اور میں مسجد کے اندر چلا گیا۔ مسجد کو اندر سے دیکھ کر جی خوش ہوا۔ مسجد کی باقاعدہ مرمت کی گئی تھی۔ نقش و نگار جون کے توں قائم تھے اور صفائی کا انتظام بھی بہترین تھا۔
جیسے ہی آپ مسجد کی مرکزی عمارت میں داخل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مسجد کو خوب صورت آرٹ اور ٹائلوں کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ مسجد کے تین گنبد ہیں۔ برصغیر میں اسلام کی تبلیغ کے حوالے سے ایک بہت ہی بڑا نام پیر مہر علی شاہ کا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اس کی تعمیر کا آغاز 1896 میں کیا تھا۔ آپ مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو یہاں پر آپ کو جو خوب صورتی نظر اتی ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ 125 یا 130 سال گزر جانے کے باوجود پوری آب و تاب سے یہ آج بھی قائم و دائم ہے جس کی ایک بڑی وجہ اس کی وقتاً فوقتاً ضروری مرمت بھی ہے۔ جب مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو اس کے لیے باقاعدہ چندہ جمع کیا گیا اور پنجاب کے مختلف علاقوں کا باقاعدہ دورہ کیا گیا۔ جو چندہ جمع ہوا اسی سے یہ مسجد تعمیر ہوئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ بعض خواتین نے اس مسجد کی تعمیر کے لیے اپنے زیور تک بیچے۔
یہ ایک انتہائی خوب صورت فن تعمیر کا شاہ کار ہے۔ مسجد کا داخلی دروازہ اس وقت بہت ساری عمارتوں اور تاروں میں گھرچکا ہے، جس کی وجہ سے اس کی خوب صورتی بُری حد تک تو متاثر ہوئی ہے۔ مسجد کی تعمیر کے حوالے سے دو مختلف روایات ہیں۔ پہلی روایت یہ ہے کہ اس کی تعمیر 1903 میں افغانستان کے شہزادے شاہ محمد ایوب شیراز حیدر نے شروع کروائی اور یہ تقریباً دو سال میں مکمل ہوئی تھی۔ دوسری روایت یہ ہے کہ پیر مہر علی شاہ نے اس کی تعمیر کا آغاز 1896 میں کیا تھا اور پھر اس کے بعد جا کر یہ 1902 میں مکمل ہوئی تھی۔ اگر فن تعمیر ہی کی بات کریں تو کہیں نہ کہیں آپ کو اس میں مغلیہ دور کی جھلک نظر آئے گی۔ مسجد میں تقریباً آٹھ ہزار نمازیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ یہاں پہلا جمعہ کا خطبہ سید محمد محمود شاہ نے دیا تھا۔ اس مسجد کا داخلی دروازہ اس مسجد کے عین سامنے نہیں ہے۔ مسجد کے صحن میں ایک دل کش فوارہ بھی ہے۔ ماضی میں لوگ وضو بھی یہیں سے کرتے ہوں گے لیکن اب ایسا معاملہ نہیں ہے۔ دیواروں کو قرآن مجید کی آیات اور احادیث مبارکہ سے سجایا گیا ہے۔
مسجد کا رقبہ 64 کنال تھا۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کی طرح اس کا صحن بہت بڑا تھا مگر افسوس کہ یہ سب دکانوں کی تجاوزات کی نذر ہوچکا ہے۔ مغلیہ فنِ تعمیر میں خصوصیت پائی جاتی تھی کہ اگر آپ مسجد کے کسی کونے پر کھڑے ہو کر اذان دیں یا کوئی خطبہ دیں تو پوری مسجد میں آواز پہنچتی تھی۔ اسی طریقے سے اس مسجد کے بھی کسی کونے پر اگر کھڑے ہو کر بات کریں تو اپ کی وہ بات چاروں کونوں تک سنائی دیتی ہے۔
خدا اہلِ راول پنڈی پر ہمیشہ کرم فرمائے۔ اگرچہ کہ 1947 کے فسادات کی ابتدا راول پنڈی سے ہوئی مگر آج ہی اس شہر کا دل اتنا بڑا ہے کہ مسجد اور مندر دونوں ایک ساتھ موجود ہیں۔ دونوں عبادت گاہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ راول پنڈی نہ تو 1926 میں تشدد پسند تھے اور نہ 1947 میں۔ بس مولانا اسحاق مانسہروی کی صورت میں اہلِ راول پنڈی پر جو عذاب اترا، جو غلطیاں اسحاق مانسہروی اور اس کے ساتھیوں نے کیں، ان کا خمیازہ مشرقی پنجاب سے لے کر مغربی پنجاب تک تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو بھگتنا پڑا۔ خدا مولانا اسحاق مانسہروی جیسے دین کے ٹھیکے داروں سے ہمیں دور رکھے۔
مانکیالہ اسٹوپا، راول پنڈی
اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتما بدھ اشوکا دی گریٹ سے بہت پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے جس مذہب کو متعارف کرایا وہ بدھ مت یا بدھ ازم کے نام سے جانا گیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر سوا لاکھ لاشوں پر کھڑے ہو کر اشوکا ظلم و ستم سے توبہ نہ کرتا تو بدھ مت کو وہ ترویج حاصل نہ ہوپاتی جو آج حاصل ہے۔ بدھ مت کا زیادہ تر پھیلاؤ اشوکا کے عہد میں ہوا۔ اس نے اپنی پوری سلطنت جو اس وقت ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے کچھ حصوں پر مشتمل تھی، نے نہ صرف بدھ کے فرمودات کو پہنچایا بلکہ پتھروں پر اپنے فرمودات کنندہ کر کے مختلف جگہوں پر لگائے جو سراسر مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مشتمل تھے۔ اس نے ٹیکسلا اور اپنی سلطنت کے کونے کونے میں اسٹوپا تعمیر کروائے جن میں کسی میں بدھا کی خاک تھی تو کسی میں بدھا کی باقیات تھیں۔ کسی میں اس کی ہڈیاں تھیں اور کسی میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور موجود تھی جو بدھ سے منسوب تھی۔ اشوکا کے بعد آنے والے جتنے بادشاہ بھی تھے انہوں نے بھی اس روش کو جاری رکھا اور بدھ مت کی ترویج کے لیے وہ کام کرتے رہے۔
راول پنڈی سے کوئی پچیس یا تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک جگہ مانکیالہ ہے۔ یہاں ایک اسٹوپا بنا ہوا ہے۔ جنوبی کوریا سے کچھ ماہرین نے پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے ساتھ مل کر اس کی کھدائی کی۔ مقامی طور پر اسے توپ مانکیالہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس اسٹوپا کی تعمیر مہاتما بدھ کی ایک پہلی زندگی کے واقعے کی یاد میں رکھی گئی ہے جس میں انھوں نے شیر کے سات بچوں کے پیٹ بھرنے کے لیے اپنے جسم کا کچھ حصہ یا پھر تمام جسم قربان کر دیا تھا۔ یہاں میں یہ بات واضح کر دوں کہ یہ ایک افسانوی بات ہے بالکل اسی طرح جیسے ہندوؤں کے مندروں، مسلمانوں کے درباروں یا سمادھیوں کے ساتھ جو افسانے منسوب کیے جاتے ہیں اسی طرح مانکیالہ اسٹوپا کے ساتھ بھی یہ افسانہ منسوب کیا گیا کہ بدھا نے اپنے پچھلے جنم میں شیر کے سات بھوکے بچوں کا پیٹ بھرا۔ ہر مذہب میں اس طرح کی روایات، افسانے یا عقیدے پائے جاتے ہیں۔
روایت کے مطابق اس کی تعمیر کنشک کے دور حکمرانی 128 سے 191 عیسوی کے درمیان کی گئی تھی۔ ایک دوسرے نظریے کے مطابق اسٹوپا کا شمار ان 84 اسٹوپوں میں ہوتا ہے جو اشوکا کے دور میں بدھا کی راکھ کو دفنانے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔ یہ اسٹوپا دیکھنے میں پتھروں کا ڈھیر محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے قارئین کو شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ ہر اسٹوپا میں بدھا کی کوئی نہ کوئی یادگار ضرور رکھی جاتی تھی۔ بیشتر جگہوں پر تو بدھا کی راکھ تھی جو اشوکا نے تقسیم کروائی اور وہ رکھی گئی۔ اس اسٹوپا کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ان 84 اسٹوپوں میں سے ایک ہے جن میں بدھا کی راکھ دفن کی گئی تھی۔
ماؤنٹ ایسٹوارٹ الیقین سٹون Mountstuart Elphinstone جو کہ افغانستان میں پہلے برطانوی نمائندے تھے 1808 میں انہوں نے اسے دریافت کیا اور پہلی مرتبہ اسٹوپا کی بحالی 1896 میں کی تھی۔ مانکیالہ گاؤں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ گاؤں راجہ مان یا مانک نے آباد کیا تھا اور یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گاؤں انڈو سیتھین بادشاہ مانی گل نے آباد کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ مانک پور، مانک نگر اور بلاآخر منکیالہ ہو گیا۔ جنرل وینچورا جو کہ رنجیت سنگھ کی فوج میں ایک فرانسیسی افسر تھا، وہ پہلا شخص تھا جس نے مانکیالہ اسٹوپا پر کھدائی کی اور حیران کن بات یہ ہے کہ رنجیت سنگھ کے جو افسران تھے ظاہر ہے جنرل وینچورا ایک خالص فوجی آدمی تھا لیکن میرا خیال ہے کہ اسے آثار کی کچھ سمجھ بوجھ تھی، اسی لیے اس نے سب سے پہلے اس کی کھدائی کی۔ کہتے ہیں کہ یہ کھدائی 22.25 میٹر گہرے کنویں کی شکل میں کی گئی تھی جو اسٹوپا کے بالکل وسط میں کھودا گیا تھا۔
اسٹوپا کی بالائی سطح سے تین میٹر کی گہرائی میں لوہے کا ایک ڈبہ ملا جس میں سونے کا ایک اور چھوٹا ڈبہ تھا جس کے ڈھکن پر خوب صورت کام کیا گیا تھا۔ اس سونے کے ڈبے میں دیگر اشیاء کے علاوہ عبداللہ ابن حزین کا چاندی کا ایک سکہ، قنوج کے حکمران یا سوورمن کا چاندی کا ایک سکہ اور مزید دو سکے جن پر سونے دیوتا کی شبیہہ تھی، ملے تھے۔ دوسرا دفینہ 13.7 میٹر سے لے کر 19.5 میٹر تک کی کھدائی کے دوران ملا تھا جس میں سونے اور تانبے کی اشیاء کے علاوہ ساسانی دور کے تین سکے ملے جن کے ساتھ کشان حکم رانوں کے سکے بھی شامل تھے۔ اوپر سے 22.25 میٹر کی گہرائی پر تانبے کا ڈبہ ملا جس میں ایک اور سونے کا ڈبا موجود تھا۔ اس سونے کے ڈبے میں کشان حکم رانوں، ہیوشکا اور کنشکا کے ادوار کے ایک سونے اور پانچ تانبے کے سکے ملے تھے۔ مانکیالہ سے ملنے والے یہ تمام نوادرات برٹش میوزیم میں نمائش کیے گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انگریزوں نے یہاں سے جو کچھ نکالا وہ اپنے ساتھ لے گئے اور انہوں نے برٹش میوزیم لندن میں اسے نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے اوپر ایک زمانے میں جانے کا راستہ بھی تھا، سیڑھیاں بھی بنی ہوئی تھیں لیکن اب وہ راستے نہیں ہیں۔ دیکھنے میں یہ پتھروں کے ڈھیڑ ہی ہیں لیکن جیسے ہندو مندر بناتے ہیں، اسی طرح بدھ ازم کے لوگوں کے لیے نہایت مقدس مانا جاتا ہے۔
اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ 151 یا 120 عیسوی اس میں اسے بنایا گیا تھا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو کم از کم دو ہزار سال بنے ہوئے ہو چکے ہیں۔ افسانے اپنی جگہ لیکن بہرحال یہ بدھ مت کا مذہبی مقام ہے۔ یہاں آ کر وہ پوجا پاٹ کرتے تھے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کر دوں بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ جیسے ہندو اپنے دیوتاؤں کو مانتے ہیں یا ان کی پوجا پاٹ کرتے ہیں تو بدھ مت کو ماننے والے لوگ بدھ کو بطور دیوتا اس کی پوجا کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ بدھ کی تعلیمات کو اپنے لیے ایک روشنی تصور کرتے ہیں اور ان تعلیمات پر ہی اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے یہاں بدھ دیوتا نہیں ہے بلکہ وہ اس کی تعلیمات کو روشنی تصور کرتے ہیں اس لیے اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ بدھا بطور دیوتا پوجا جاتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ بدھا ان کا ایک رہبر تو ہوسکتا ہے جس نے انہیں نروان کا راستہ دکھایا لیکن بدھا ان کا دیوتا نہیں ہے۔ یہاں یہ بھی میں بتا دوں کہ ہندوؤں کی نسبت بدھ مت میں جو خدا کا تصور پیش کیا گیا وہ مسلمانوں سے بہت ملتا جلتا ہے۔
مانکیالہ میں بیماریوں اور مصیبتوں سے نجات کا سلسلہ صدیوں سے جاری رہا۔ کبھی مانکیالہ کا موسم سدا بہار ہوتا تھا جہاں کئی چھوٹے اسٹوپے، سیکڑوں زیارتیں، زائرین اور بخشوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ آندھی ضروری نہیں کالی ہو۔ گندھارا کو سفید آندھی نے آلیا۔ وحشی لوگوں نے تہذیب کی ہر علامت راکھ کر دی۔ رہی سہی کسر باقی کے حملہ آوروں نے نکال دی۔ 1808 میں انگریزوں نے افغانستان کے لیے اپنا پہلا سفارت کار قابل روانہ کیا۔ سفر سے واپسی پر انھوں نے ٹیکسلا کی طرح کا ایک شہر دیکھا۔ اس نے اپنے بندے چاروں طرف دوڑے مگر گنبد کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ انھوں اس کی پیمائشیں کیں، مختلف سلوں، آرائشی پتھروں، دیواری ستونوں تک کی جزئیات لکھ ڈالیں۔ عمارت کا خاکہ تیار کروایا لیکن ہم سفروں نے جب اسے یونانی شاہکار قرار دیا تو عمارت کا سارا حسن گہنا گیا۔ رنجیت سنگھ کے ایک انجنیئر کو 1834 میں پتھر میں بند تین تکونی تابوت ملے۔ جس میں کشنان عہد کے سونے، چاندی اور کانسی کے سکے تھے۔
انہوں نے منکیالہ کہ 14 ٹیلوں کی کھدائی کی۔ پہلے یہ بھی خیال ظاہر کیا گیا کہ منکیالہ ہی قدیم ٹیکسلا ہے اور یہ گنبد زیادہ سے زیادہ کسی قدیم بادشاہ کی یادگار یا کسی فتح کی نشانی ہے۔ علاقے کے مسلمان اسے افغان جنگ کی یادگار بتاتے ہیں جبکہ ہندو تبرک کے طور پر اپنے بیٹوں کے بالوں کی پہلی کٹائی یہاں کراتے تھے۔ 1862، 1863 اور 1878 میں تین مرتبہ چھ مربع میل پر پھیلی باقیات کو چھانا گیا تو پتا چلا کہ دیواری ستون کا مصالحہ یونان سے لایا گیا۔ 73 فٹ کی گہرائی سے کانسی کی ایک ڈبیہ بھی ملی جس کے اندر ایک اور ڈبیا تھی جس میں کشنان عہد کے پانچ کانسی کے سکے تھے۔ آخری مرتبہ بحالی کا کام 1891 میں ہوا۔ بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ کشنان حکمرانوں کا مقدس مقام تھا۔ یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر سلطان سارنگ خان اپنے سولہ بیٹوں کے ساتھ مارا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دورِ آتش پرستہ میں کسی ہندو راجا کی ارتھی جلائی گئی تھی، یہ اسی کی یادگار ہے۔
سوات، خیبر پختون خواہ اور پنجاب یہ تین علاقے پاکستان کے ایسے ہیں جہاں اسٹوپے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ سندھ میں موہنجو داڑو کے عین وسط میں ایک اسٹوپا بنا ہوا ہے لیکن اس کا موہنجودڑو شہر سے کوئی تعلق نہیں ہے یعنی موہنجوڈارو کے جو لوگ تھے وہ کسی اور مذہب کے پوجا کرتے تھے اور پھر وہ شہر ختم ہوگیا۔ کہتے ہیں یہ شہر سات دفعہ اجڑا، سات دفعہ آباد ہوا لیکن جب وہ ساتویں دفعہ آباد ہوا تو اس وقت یہاں عبادت کے لیے ایک اسٹوپا بھی تعمیر کرایا جو آج موہنجوڈارو کی عالمی سطح پر پہچان ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ موہنجودڑو کبھی بدھ مت کا پیروکار نہیں رہا۔
چھٹی دفعہ اجڑنے کے بعد جب یہ شہر آباد ہوا تو یہاں بدھ مت کے پیروکار تھے۔ اس اسٹوپا کا ان کھنڈرات سے کوئی تعلق نہیں جو کھنڈرات زمین کے نیچے سے دریافت ہوئے ہیں۔ تخت بہائی کے کھنڈرات بہت بہتر حالت میں ہیں۔ سوات میں کم از کم 91 جگہ ایسی ہیں جو بدھ مت سے منسوب ہیں۔ چٹانیں ہیں جن پر بدھا کے فرمودات لکھے ہوئے ہیں۔ بدھ مت کے زائرین کوریا، چین، جاپان سمیت مختلف ممالک سے آتے ہیں اور وہاں آج بھی اپنے رسومات ادا کرتے ہیں۔
راول پنڈی میں بھی ایک تنگ سی نکاح والی گلی ہے جہاں چند لمحے ہم جان بوجھ کر فقط تصویر کے بہانے ہی کھڑے رہے کہ کاش کوئی آئے تو چلو نکاح کی نہ سہی، فقط ہلکی پھلکی ہیلو ہائے کی ہی گنجائش نکل آئے مگر ہائے ہماری بری قسمت کہ ایک طویل انتظار کے بعد سامنے سے اگر کوئی برآمد ہوا بھی تو ایک عدد آوارہ بلی جس کے تین عدد بلونگڑوں کی نہ تو شکلیں آپس میں ملتی تھیں اور نہ ہی رنگ اور اس پر بجائے شرمندہ ہونے کے ہمارے سامنے ایسے ٹھمک ٹھمک کر چل رہی تھی جیسے نئی نویلی دلہن ہو۔ شہرِ دل رُبا (راول پنڈی) کی بلیاں بھی کس قدر دل پھینک ہیں۔