Express News:
2026-06-03@02:34:29 GMT

تھرپارکر، جو میں نے دیکھا۔۔۔۔ 

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

پاکستان کے جنوب مشرقی کونے میں واقع تھرپارکر، ایک منفرد اور رنگین علاقہ ہے جو ہر سیاح کو ایک بار لازمی دیکھنا چاہیے۔

آج کل ملک میں کڑاکے کی ٹھنڈ پڑ رہی ہے لیکن کچھ دن بعد دن کھل جائیں گے اور تھرپارکر جانے کے لیے یہ دن بہترین ہیں کیوںکہ مئی تا ستمبر اس خطے میں اچھی خاصی گرمی پڑتی ہے۔ ہلکی سردیوں میں نہ صرف موسم خوش گوار ہوتا ہے بلکہ تھر کی اصل خوبصورتی بھی پوری آب و تاب سے سامنے آتی ہے۔

 ہم نے بھی گذشتہ سال کے اوائل دسمبر میں دوبارہ تھر دیکھنے کا پروگرام بنایا اور دو ماہ پہلے سے سب دوستوں کو چوکنا کر دیا ورنہ وقت پہ سب بھاگ جاتے ہیں۔

 اس سفر میں ہم چھے لوگ شامل تھے۔ پروگرام کے مطابق سب سے پہلے پروفیسر کاشف علی صاحب (شعبہ تاریخ، یونیورسٹی آف گجرات) تیزگام ایکسپریس پر گجرات سے سوار ہوئے۔ اس کے بعد عمران احسان بھائی (معلم، محقق، فوٹوگرافر) اور عبدالوہاب (بزنس مین، فوٹوگرافر) نے گجرانوالہ سے انہیں جوائن کیا۔ لاہور پہنچنے پر شجاعت علی (میکاٹرونکس ڈیپارٹمنٹ، یو ای ٹی) و محمد شعیب ( محقق و تاریخ داں) بھی اس ٹرین پر سوار ہوئے۔ رات کو تیزگام جب خان پور پہنچی تو مابدولت نے ہمراہ عشائیہ ٹرین کو رونق بخشی اور ٹرپ کا کورم پورا ہوگیا۔

اگرچہ ہوٹل بکنگز ہوچکی تھیں اور آگے سفر کی گاڑیاں ہماری بُک تھیں لیکن ایک بار پھر دوستوں کو سارا پلان بتایا۔

 الحمدللّہ، میرے پانچوں کے پانچوں ساتھی سفر کے حوالے سے بڑے تجربے کار ہیں اور ہر چیز کو سمجھتے ہیں تو معاملات فوراً سمجھ گئے۔

صبح کوئی ساڑھے آٹھ ، نو بجے ٹرین نے ہمیں حیدرآباد میں اتار دیا جہاں سے ہمارا سفر شروع ہونا تھا۔

پہلا دن

سب سے پہلے منان ہوٹل پر بھرپور ناشتہ کیا گیا جس نے لاہور کے ناشتے کو بھی مات دے دی۔ اس کے بعد ہم بُک کروائی گئی ہفت نشستی گاڑی پر مٹھی کی طرف روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے نوکوٹ کے قریب سید رضی شاہ درگاہ کا دورہ کیا۔ اس سے کچھ آگے قلعہ نوکوٹ واقع تھا۔ دو سو سال سے بھی زیادہ قدیم اس قلعے کو دیکھنے کے بعد شام تک ہم مٹھی پہنچ گئے۔

مِٹھی میں وہاں کا سب سے بڑا مندر شوالیہ مندر دیکھا، تب تک مغرب ہوچکی تھی۔ وہاں پر ایک ہندو جوڑے کی شادی بھی ہورہی تھی جس کی وجہ سے وقت زیادہ لگ گیا۔ کھانے کے لیے مشہور ڈائمنڈ ہوٹل پہنچے جہاں پنیر کے پکوانوں کی دعوت اڑائی۔ یہاں پنیر کے بہت لذیذ پکوان ملتے ہیں جیسے پالک پنیر، پنیر کڑاہی وغیرہ۔ مٹھی میں قیام کے لیے میں نے گاڈی بھٹ پر مونال ہوٹل بک کروایا تھا کہ اس جگہ کا اصل مزہ ہی اس کی رات کی وائب ہے۔ رات کے وقت مٹھی کا شان دار نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جسے دیکھنے شہر کے لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ بھرپور انجوائے کرنے کے بعد گیارہ بجے تک ہم سو گئے۔

دوسرا دن

گاڈی بھٹ سے ہم صبح روانہ ہوئے، ناشتہ وہیں مٹھی کے اس ہوٹل پر ہی کیا جو ہمارا پسندیدہ ہوٹل بن گیا تھا۔ ناشتے کے بعد ہم سب سے پہلے اسلام کوٹ پہنچے جہاں سنت نینو رام آشرم اور اس کے قریب ہنگلاج مندر کا دورہ کیا۔ یہ جگہ ایک کمپلیکس ہے جہاں مندر، سمادھیاں، ہالز اور بہت کچھ ایک ہی جگہ واقع ہے سو وقت زیادہ لگ گیا۔ یہاں بھی دو تین شادیاں ہورہی تھیں۔ اس کے بعد گوری کا قدیم جین مندر اور گاؤں کے گھر دیکھے۔ پھر بھالوہ گاؤں میں ماروی کا کنواں تھا جہاں ہم نے زیادہ ٹائم نہیں ضائع کیا اور اس کے آگے ویراواہ کے جین مندر پہ پہنچ گئے۔

کاجل جھیل کے کنارے واقع ویرا ہوا کا جین مندر کیوںکہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا سو یہاں پر ہم نے آرام سے ایک سوا ایک گھنٹہ گزارا اور اسی گاڑی پر ہم جا پہنچے بھوڈیسر میں واقع کارونجھر گیسٹ ہاؤس۔ یہاں چیک ان کیا، فریش ہوئے اور اسی گاڑی پر ہم بھوڈیسر کی مسجد جا پہنچے۔ گاڑی کو الوداع کیا اور قریب قریب واقع اس کمپلیکس کو پیدل دیکھا۔

 مغرب ہونے کو تھی اور ہمارے پاس وقت کم تھا سو یہاں پر ہم سب پھیل گئے۔ ہر بندے نے اپنے حساب سے ان چار مانومنٹس کو کور کیا جن میں ایک مسجد اور تین مندر شامل ہیں۔ جین مندر ایک دو اور تین کو ڈاکومنٹ کرتے کرتے سورج چھپ گیا۔ مغرب سے پہلے پہلے ہمارے تینوں مندر کور ہوچکے تھے۔ یہیں پر ہمیں سندھ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہلکار ملا جس نے بتایا کہ یہاں قریب ایک اور ہندو مندر ہے۔ اس کے ساتھ ہم گئے تو ایک پرانے پتھر سمیت ہمیں ایک اور مندر دکھایا۔

 اسی طرف ایک روشنی نظر آئی تو ہم وہاں چل دیئے۔ معلوم ہوا یہ ’’لاہوتی آشرم‘‘ ہے جو ہماری لسٹ میں بھی شامل تھا۔ یہ اس دن کی ہماری آخری اٹریکشن تھا جہاں پہنچتے ہمیں رات ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ہم گیسٹ ہاؤس آئے، کھانے اور نماز کے بعد چائے پی اور سوگئے۔

اگلے دن کے لیے جیپ اسی رات بک کروا لی گئی تھی۔

تیسرا دن

تیسرے دن صبح اٹھے ناشتہ وہیں گیسٹ ہاؤس میں کیا تیار ہوئے اور جیپ میں سوار ہوگئے۔ پہلے نگرپارکر کے مشرق میں واقع رنپور ڈیم کی جھیل پر رکے اور پھر اسی جیب پر ہم چوڑیو مندر پہنچے جو پاکستان بھارت کی سرحد پر رن آف کچھ کے ساتھ تھا۔ یہ مندر تین طرف سے بھارت میں گھرا ہوا ہے۔ چوڑیو مندر کیوںکہ ہماری اس دن کی مین ہائی لائٹ تھا سو اس کو ہم نے تسلی سے دیکھا۔

 اس کے بعد صحرا کے اندر ہی اندر چِتراسر اور سُوراچند گاؤں سے ہوتے ہوئے ہم کاسبو جا پہنچے۔ جنوب کا آخری علاقہ کاسبو، موروں کا گھر کہلاتا ہے۔ یہاں پہ راما پیر کا مندر واقع ہے۔ کاسبو اور نگرپارکر میں مسکین جہان خان کھوسو عجائب گھر سے ہوکے جین مندر پہنچے۔ جین مندر کی بہترین عکاسی کرنے کے بعد قریب ہی ایک دیسی ہوٹل پر ہم نے چائے پی اور واپس اپنے گیسٹ ہاؤس پہنچے۔

چوںکہ میں چاہتا تھا کہ کم وقت میں اپنے دوستوں کو زیادہ سے زیادہ تجربات کروا دوں تو ہم نے اس دن کے لیے روپلو کولہی ریزورٹ میں بکنگ کروا رکھی تھی۔ یہاں سے ہم نے اپنا سامان سمیٹا چیک آؤٹ کیا اور رکشہ کروا کے روپلو پہنچے جو یہاں سے قریب ہی تھا۔

یہ تھرپارکر میں سندھ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کا شان دار ریزاٹ ہے جس کے ریٹس بھی مناسب ہیں۔

 فریش ہونے کے بعد یہیں پر ڈنر کیا اور چائے پی۔ کافی دیر تک تھر کی ہلکی سی خنکی میں گپ شپ کی اور اگلے دن کی پلاننگ کرکے سو گئے۔

چوتھا دن

 اس کے بعد اگلے دن صبح اٹھے تیار ہوئے اور چائے کا آرڈر دے کر بیٹھ گئے۔

 چائے ابھی بن ہی رہی تھی کہ سامنے مٹھی کی بس گزری۔ اس کے بعد دوسری بس چوںکہ لیٹ تھی تو ہم نے اسی بس کو پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ جلد سے جلد بل کلیئر کیا اور بھاگم بھاگ اس پر سامان رکھا اور بیٹھ گئے۔ اس دوران میری چائے رہ گئی جس کا افسوس رہے گا، اس کے بغیر ہوش جو نہیں آتا۔

 صبح ساڑھے سات بس وہاں سے نکلی اور ٹھیک ساڑھے دس بجے اس نے ہمیں مِٹھی پہنچا دیا۔ مٹھی کے اڈے پر ہی ہم نے دستی عمر کوٹ کے لیے اے سی (وہاں گرمی تھی) گاڑی بک کروالی اور اپنے پسندیدہ ہوٹل پر آئے۔ پنیر کڑاہی اور پالک پنیر سے آخری بار انصاف کیا اور عمر کوٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔

یہاں سے عمر کاٹ کی سڑک صحرا میں سے گزرتی تھی اس سفر کو تمام دوستوں نے خوب انجوائے کیا۔

 عمرکوٹ میں ہم نے غوثیہ ریسٹ ہاؤس بک کروا رکھا تھا جو بہت شان دار تھا۔ میرے مطابق قیام کے حوالے سے ہمارے ٹرپ کی سب سے زبردست جگہ یہی تھی جہاں ایک جدید طرز کے گوپہ (جسے مقامی گل جی کہتے ہیں) نما کمرے میں ہم رہائش پذیر تھے۔ فریش ہوئے اور اسی گاڑی والے کے ساتھ عمرکوٹ قلعہ پہنچ گئے۔ قلعہ عمرکوٹ اور اندر واقع میوزیم دیکھنے کے بعد اکبر کی جائے پیدائش پہنچے اور راستے میں آنے والی عبدالرحیم گرہوڑی لائبریری کا وزٹ کیا جس کے بعد شہر سے کوئی پانچ کلومیٹر دور واقع سیو مندر جا پہنچے۔ یہاں بھی ہمیں کچھ دولہے مل گئے۔ تھر میں یہ موسم شادیوں کا موسم ہوتا ہے سو ہر سو دولہوں کی بہار تھی۔ مندر کی ڈاکومنٹیشن کرتے کرتے مغرب ہوگئی۔

مغرب کے بعد ہم عمر کوٹ پہنچے۔ چوک میں ہی ایک دیسی ہوٹل سے لذیذ کھانا کھایا اور پیدل چل کے اپنے ریسٹ ہاؤس پہنچ گئے جو زیادہ دور نہیں تھا۔

یہاں ہمیں اپنے سفر کی سب سے زیادہ ٹھنڈی رات ملی۔

پانچواں دن

 اگلا دن ہمارے لیے سب سے مشکل تھا کیوںکہ اس کی پلاننگ حتمی نہیں تھی۔

 اس دن کے لیے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم تھر میں ٹرین کا سفر کریں گے اور دھورو نارو سے ماروی ایکسپریس پر میرپورخاص جائیں گے۔ ہمیں عمرکوٹ کے قریب جو اسٹیشن پڑ رہا تھا وہ دھورونارو تھا جو بتیس کلومیٹر دور تھا۔ وہاں پہنچنا اور ٹرین وقت پر پکڑنا دوستوں کی تیزرفتاری اور ہماری قسمت پر منحصر تھا۔ سو صبح صبح سب کو اٹھایا، جلدی سے تیار ہوئے اور اللّہ کا نام لے کر نکل پڑے۔ اڈے پر پہنچے تو نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ ایک سوزوکی والے سے فوراً تین ہزار میں بات ڈن کی اور عمرکوٹ سے لگ بھگ چالیس منٹ دور شمال مغرب میں دھوڑونارو پہنچ گئے۔ سارا راستہ میں دعا کرتا آیا کہ ٹرین لیٹ ہوجائے لیکن شاید تاریخ میں پہلی بار کوئی پاکستانی ٹرین بالکل وقت پر پہنچ رہی تھی۔

 ابھی ہم اسٹیشن پر پہنچے ہی تھے کہ ماروی ایکسپریس کی سیٹی کی آواز آئی۔ ہمارے وزیرخزانہ عبدالوہاب نے فوراً ٹکٹ لیے اور ہم ٹرین پر سوار ہوگئے۔ اس وقت احساس ہوا کہ انسان اگر دل سے کچھ کرنا چاہے اور کوشش کرے تو کچھ بھی ممکن ہے۔

دھورو نارو سمیت مختلف تاریخی اسٹیشن دیکھے جن میں پتھارو، عبداللّہ آباد، بلوچ آباد اور جمڑاؤ شامل ہیں۔

 صبح ساڑھے دس بجے کے آس پاس ہم میرپورخاص پہنچے۔ اچھے طریقے سے ریلوے اسٹیشن کور کیا اور ناشتے کے بعد دستی سیون سیٹر بک کروا کے ہم نے میرپورخاص کے شمال میں واقع تالپوروں کے قبرستان کا راستہ ناپا۔ یہ چتوڑی میں واقع ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ وہاں پہ گزارنے کے بعد ہم میرپورخاص اور ٹنڈوالہ یار سے ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچے۔

 حیدرآباد پہنچ کر ہم نے میرن جو قبا نامی تالپوروں کے مقبروں کا کمپلیکس وزٹ کیا جہاں ہمیں شام ہوگئی۔ اس کے بعد ہم ریلوے اسٹیشن کے پاس واقع اپنے ہوٹل میں آئے اور فریش ہوکر نماز پڑھی پھر ڈنر کو نکلے۔ رات کے کھانے کے لیے ہماری پسندیدہ ترین جگہ اسٹیشن کے پاس حیدرآباد کی بریانی تھی جس کے لیے سب دوست اتاؤلے ہورہے تھے۔

حیدرآباد کی مسالے دار بریانی سے بھرپور انصاف کرنے کے بعد ہمارے پاس وقت بچتا تھا تو ہم نے تاریخی بمبئی بیکری کا رخ کیا۔ وہاں سے مشہور کافی کیک خریدے اور اس کے بعد چائے پی۔

 یہاں میرا سفر اختتام کو پہنچا۔ رات کی تیزگام، سیون اپ نے مجھے خان پور لا اتارا۔ بقیہ دوستوں نے اگلے روز شہداد پور، بھٹ شاہ، اور ہالہ گھومنے کے بعد رات اسی ٹرین پر واپسی کا قصد کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گیسٹ ہاو س سب سے پہلے کے بعد ہم اس کے بعد پہنچ گئے میں واقع جا پہنچے ہوئے اور مندر کی کیا اور بک کروا چائے پی ہوٹل پر اور اس کے لیے

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف