گندم بحران کا خدشہ، آٹا چکی مالکان نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)سندھ میں ممکنہ گندم بحران کے خدشہ کے پیش نظر گندم امپورٹ کرنے کے لئیے اٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری حاجی نجم الدین چوہان نے وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ دیا جس کی کاپی وزیر اعظم پاکستان گورنر سندھ صوبائی وزیر خوراک چیف سیکریٹری ۔ سیکریٹری خوراک ڈائریکٹر خوراک سندھ ڈویژنل کمشنر ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ حیدرآباد کو ارسال کردیں خط میں خدشہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ میں ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح گندم اور اٹے کا بحران پیدا ہوسکتا ہے اس کے مافیاء تیزی سے سرگرم ہوگء ہے خط میں حکومت کی جانب سے سندھ کے عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کی غرض سے سرکاری گندم کے اجراء پر ایک اندازہ کے مطابق 85 ارب روپے کی خطیر رقم سے سبسڈی دی گء ہے لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ اربوں روپے کی سبسڈی دئیے جانے کے باوجود شہری مہنگی گندم کا مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں مافیاء نے اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے مافیاء کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئیے حکومت سندھ میں گندم کے ممکنہ خوفناک بحران سے بچنے کے لئیے فوری طور پر گندم امپورٹ کرنے کے اقدامات کرے واضح رہے کہ محکمہ خوراک سندھ نے حیدرآباد کے 90 فیصد سے زائد عوام کو آٹا فراہم کرنے والی اٹا چکیوں کو دسمبر کے مقابلے میں سرکاری گندم کوٹہ میں 50 فیصد کمی کرکے اسٹون پالیسی کے تحت یومیہ 88 کلو گندم کوٹہ کے چالان کا اجراء کیا اس کے برعکس بیکری آئٹمز کے لئیے سوجی میدہ فائن اور تندوری آٹا بنانے والی رولر فلور ملز کو فی مل 10 سے 12 ہزار 100 کلو گندم کی بوریوں کے چالان جاری کئیے گئیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لئیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔