صنعتوں کیلیے 2 ہزار ارب کا پیکیج ‘آئی ایم ایف سربراہ سے کل بات ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260119-08-18
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف صنعتی بحالی کے لیے ڈیڑھ سے2 ہزار ارب روپے کے بڑے ریلیف پیکیج پر غور کر رہے ہیں، اس حوالے سے حمایت حاصل کرنے کے لیے وہ آئندہ ہفتے ڈیووس میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کریں گے۔مذکورہ ملاقات کل سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ہوگی۔ مئی2023ء میں شہباز شریف نے پیرس میں کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے اور ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے درست سمت میں کام کریں گے۔شہباز شریف نے معیشت کو ڈیفالٹ سے تو بچایا لیکن اس کے نتیجے میں دہائیوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری اور غربت سامنے آئی جسے وہ اب ریورس کرنا چاہتے ہیں۔وزارت خزانہ نے کہا کہ وہ کل کی مجوزہ میٹنگ پر تبصرہ نہیں کرے گی جبکہ آئی ایم ایف اور وزیر اعظم کے میڈیا آفس نے بھی کوئی ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا۔ریلیف پیکج کا منصوبہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، کاروباری برادری اور وزارت خزانہ کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔جس کے تحت2013ء کے بعد سے سسٹم میں پیدا ہونے والی تمام ٹیکس تحریفات کو ختم کرنا اور فرمز، افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں خاطر خواہ کمی کرنا شامل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دیگر اجزا کو شامل کرنے کے بعد پیکج کی لاگت 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔