قونصلیٹ کی نئی عمارت کا افتتاح، تارکین وطن کے لیے بہتر خدمات کا وعدہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جدہ (سید مسرت خلیل) جدہ میں پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 10 جنوری 2026 قونصلیٹ جنرل آف پاکستان کی نئی چانسری عمارت کا افتتاح کردیا۔ افتتاحی تقریب نہایت سادگی اوروقار کے ساتھ منعقد ہوئی جس کا آغاز قاری محمد آٓصف نے آیاتِ ربانی کی تلاوت و ترجمہ سے کیا۔ ہیڈ آف چانسری غلام حسین نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے۔ تقریب میں سعودی وزارت خارجہ کی مکہ شاخ کے ڈائریکٹرجنرل فرید بن سعد الشہری، او آئی سی کے اسسٹینٹ سیکریٹری جنرل برائے سنائس اینڈ ٹیکنالوجی پاکستان کے آفتاب کھوکھر، سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، سعودی معززین، قونصل جنرل پاکستان جدہ سید مصطفیٰ ربانی، پاکستانی کمیونٹی کی خصوصی شخصیات اور قونصلیٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب کے دوران نئی چانسری عمارت میں قومی پرچم لہرایا گیا، شجرکاری کی گئی، ربن کاٹا گیا، یادگاری تختی کی نقاب کشائی ہوئی اور پاکستان و سعودی عرب کے قومی ترانے ہوئے۔ قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انھوں تارکین وطن کے لیےمؤثراوربہتر خدمات کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ سفیر پاکستان محمد فاروق نے کہا نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاک سعودی دوستی کی تعریف کی۔ اپنے خطاب میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈارسابق قونصل جنرل خالد مجید کی کوششوں اور سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے تعاون کو سراہا جس کے باعث یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ عمارت اور سہولیات کا جائزہ لینے کے بعد نائب وزیرِاعظم نے منصوبے کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور جلد از جلد تمام انتظامی اور قونصلر خدمات نئی چانسری عمارت میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے مغربی خطے میں تقریباً 18 لاکھ پاکستانی تارکین وطن مقیم ہیں۔ منصوبے کی خصوصیات پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو رپورٹ بھی پیش کی گئی جس کے مطابق قونصلیٹ کی نئی عمارت کا کل رقبہ 18 ہزار 400 مربع میٹر ہے جبکہ عمارت 5 ہزار 200 مربع میٹر پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس کی چار منزلیں ہیں۔ یہ ایریا 8 ہزار 770 مربع میٹر ہے۔ پہلی دو منزلیں قونصل خدمات کے لیے مختص ہیں، دو بڑے ہال اور پبلک ویٹنگ ایریا ہوں گے۔ تیسری منزل آفس ایریا کے لیے جبکہ چوتھی منزل حج مشن کے لیے ہے۔ یہاں آرکائیوز بھی محفوظ کیے جائیں گے۔ یہ پروجیکٹ گرین بلڈنگ اور انوائرنمنٹ فرینڈلی ہے۔ ہوا اور روشنی کا اہتمام ہے۔ سمارٹ کنٹرول سسٹم اور سعودی قوانین کے مطابق تمام بنیادی سہولتیں اس میں موجود ہیں۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان اور سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں 132ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا آج 300 سے زائد خواتین اپنی ٹریننگ مکمل کررہی ہیں، مجھےخواتین کی کامیابی پر بہت خوشی ہوئی کہ ایک تازہ دم دستہ عوام کی خدمت کےلیے تیار ہے، شہریوں کو پر امن زندگی دینے کی ذمےداری اب آپ پر عائد ہوتی ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائےگا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی فلاح و بہبود ہمیشہ سے میری اولین ترجیح رہی ہے، مستقبل میں بھی پولیس کے تمام مسائل کو بہتر اور ترجیحی انداز میں حل کیا جائے گا، پاس آؤٹ ہونے والے جوان فیلڈ میں جا کر سندھ پولیس کا نام مزید روشن کریں گے۔مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ پولیس اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی اپنے امیج (تاثر) کو بہتر بنا سکتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانےکی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔