گل پلازہ سانحے پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی لیے 6 ٹیمیں تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) سانحہ گل پلازہ کےریسکیو آپریشن کی مؤثر نگرانی کےلیےڈپٹی کمشنر جنوبی نےکمشنر کراچی کے احکامات پر 30 افسران پرمشتمل چھ ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی کے مطابق ہر ٹیم میں ایک سربراہ کےساتھ دو اسسٹنٹ کمشنرز اور دو مختیارکار شامل ہوں گے، جبکہ یہ ٹیمیں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں گی، تمام ٹیمیں تین شفٹوں میں کام کریں گی تاکہ ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔
پہلی ٹیم ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ امیرفضل اویس کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے، جو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کمانڈنگ افسر کےفرائض انجام دیں گے۔ ان کے ساتھ دو اسسٹنٹ کمشنرز اور دو مختیارکار شامل ہوں گے۔
دوسری ٹیم کی قیادت ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کریں گے، جو صبح 6 بجے سے دوپہر 2 بجے تک آپریشن انچارج ہوں گے، تیسری ٹیم اے ڈی سی ون ساؤتھ اسمیٰ بتول بطول کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے،جو دوپہر 2 بجے سے رات 10 بجے تک کمانڈنگ افسر کے فرائض انجام دیں گی۔
چوتھی ٹیم اے ڈی سی ون سینٹرل عاصم عباسی کی قیادت میں کام کرے گی، جو رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک کمانڈنٹ ہوں گے، پانچویں ٹیم اے ڈی سی ون ایسٹ سمیع اللہ سنجرانی کی سربراہی میں صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک اپنی خدمات انجام دے گی۔
چھٹی اور آخری ٹیم اےڈی سی ون کیماڑی عبدالستارہکڑو کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے،جو شام 4 بجے سے رات 12 بجے تک کمانڈنگ افسر کے فرائض سرانجام دیں گے، انتظامیہ کے مطابق تمام ٹیمیں گل پلازہ سانحے کے بعد جاری ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں گی تاکہ متاثرین کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی سربراہی میں میں تشکیل ہوں گے بجے تک
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔