سی ڈی اے میں اختیارات کا غیر معمولی ارتکاز ، ڈیپوٹیشن پر تعینات گریڈ 18 کی افسر کو چار طاقتور ادارے بیک وقت سونپ کر قواعد اور اصولوں کی دھجیاں اڑا دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد ( ملک نجیب ) کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے ) میں انتظامی اختیارات کے غیر معمولی ارتکاز نے ایک بار پھر سوالات اور عوامی خدشات کو جنم دے دیا ہے ۔ ڈیپوٹیشن پر تعینات پاس گروپ سے تعلق رکھنے والی گریڈ 18 کی خاتون افسر ڈاکٹر انعم فاطمہ بیک وقت چار اہم اور بااثر عہدوں کی ذمہ دار ہیں جن میں چیف میٹروپولیٹن کارپوریشن آفیسر (MCI) — گریڈ 19 کا عہدہ، 27 اگست 2025 سے سنبھالا گیا ، ڈائریکٹر، میونسپل ایڈمنسٹریشن (DMA) سی ڈی اے کی میونسپل انتظامیہ کے امور ، انفورسمنٹ چیف تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی علاوہ ازیں اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کا اضافی چارج بھی وہ عارضی بنیاد پر 14 جنوری 2026 سے سنبھال رہی ہیں ۔ اہم پہلو یہ ہے کہ چیف MCI آفیسر گریڈ 19 کا عہدہ ہے جبکہ ڈاکٹر انعم فاطمہ گریڈ 18 کی افسر ہیں ۔ گریڈ 18 کی افسر کو گریڈ 19 کے عہدے پر مقرر کرنا وفاقی خدمات کے اصولوں اور قواعد کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سی ڈی اے رولز (CDA Service Regulations, 1992) اور اسٹیبلشمنٹ کوڈ (ESTA Code) واضح کرتے ہیں کہ ایک افسر کو صرف عارضی اور محدود مدت (3 ماہ تک) کے لئے اضافی چارج دیا جا سکتا ہے ۔ چار بڑے ، مستقل اور فعال اداروں کا چارج ایک ہی افسر کو بیک وقت دینا قواعد کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتظام نہ صرف ادارہ جاتی شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ شہری سہولیات اور بنیادی خدمات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ ایم سی آئی کے عہدے پر تقریباً 5 ماہ سے خدمات انجام دی جا رہی ہیں جبکہ DMA اور انفورسمنٹ کی ذمہ داریاں کم از کم ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں ۔ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کا اضافی چارج چند روز قبل ان کے
سپرد کیا گیا جبکہ اس عہدے پر تعینات مستقل افسر کو عہدے سے ہٹا کر انہیں اضافی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سی ڈی اے کے مستقل بنیادوں پر متعدد افسران کو عہدے نہیں سونپے گئے اور گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں ایچ آر ڈی رپورٹ کیا گیا یا پھر او ایس ڈی کر دیا گیا جو انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور اپنے منظور نظر چند افسران کو نوازنے کی مبینہ حکمت عملی معلوم ہوتی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن اداروں کی ذمہ داریاں ڈاکٹر انعم فاطمہ کو سونپی گئی ہیں ان تمام اداروں کا براہ راست تعلق تاجر برادری سے ہے اور تاجروں کا کہنا ہے کہ شہر میں تاجروں کو نشانہ بنانے کے لئے تمام اداروں کی سربراہی ایک ہی افسر کو سونپ کر انتظامیہ نے تاجروں کو احتجاج پر مجبور کر دیا ہے اور تاجروں کو بلاوجہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ تاجر مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان عہدوں پر مستقل افسر تعینات کئے جائیں یا پھر اضافی چارجز قواعد کے مطابق دینے جائیں ، اختیارات کا ارتکاز ایک افسر کے ہاتھ میں ختم کیا جائے اور اداروں کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاہم سی ڈی اے ترجمان سے اس متعلق موقف لیا گیا تو ان کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوتا ہے کہ اداروں کے بجائے افراد پر انحصار کیا جا رہا ہے ۔ یہ واقعہ نہ صرف سی ڈی اے کے انتظامی نظام میں کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ وفاقی قواعد و ضوابط کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالتا ہے ۔ عوامی مفاد اور ادارہ جاتی کارکردگی کے لئے ضروری ہے کہ اختیارات کا ارتکاز ختم کیا جائے اور ادارے مضبوط بنائے جائیں نہ کہ چند افراد کو طاقتور بنایا جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اضافی چارج گریڈ 18 کی سی ڈی اے افسر کو
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔