شادی کے کارڈ پہلے، شادی بعد میں! ہانیہ عامر کی وضاحت سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر اور گلوکار عاصم اظہر نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی طرف اشارے دینا شروع کر دیے ہیں، اب ایک بار پھر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ ہیں۔ان دنوں دونوں ایک دوسرے کے خاندانی تقریبات میں بھی شریک ہو رہے ہیں، جس کے بعد مداحوں کی بڑی تعداد ان کی ممکنہ شادی کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہی ہے۔ گزشتہ رات ہانیہ عامر نے اپنی شادی سے متعلق پھیلنے والی افواہوں اور مداحوں کے سوالات کے جواب دیے، ایک سوال کے جواب میں ہانیہ نے کہا کہ اتنی زیادہ افواہوں کے بعد اب تو وہ خود بھی شادی کا سوچنے لگی ہیں۔ ہانیہ عامر کے مطابق اگر شادی ہوئی تو وہ سادہ تقریب کو ترجیح دیں گی، شادی کے لباس سے متعلق سوال پر ہانیہ نے بتایا کہ وہ اپنی شادی پر جامنی رنگ کا لباس پہنیں گی۔جب ایک مداح نے بابر اعظم کے ساتھ شادی کے امکان کے بارے میں سوال کیا تو ہانیہ عامر نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا کہ مداحوں کے مطابق تو یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ ایک اور سوال میں شادی کے کارڈ کے بارے میں پوچھا گیا تو ہانیہ عامر نے کہا کہ انٹرنیٹ پر پہلے ہی بہت سے شادی کے کارڈ گردش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دراصل وہ صرف شادی کی تھیم پر سالگرہ کی تقریب کرنا چاہتی تھیں، اصل شادی نہیں، لیکن مداحوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لے لیا ہے۔ہانیہ عامر اور ان کے مداحوں کے درمیان شادی سے متعلق ہونے والی یہ دلچسپ اور مزاحیہ گفتگو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر شادی کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔