چاند پر دوسرے قدم کی تیاریاں، ناسا کا دیوہیکل راکٹ لانچنگ پیڈ پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ناسا کا دیوہیکل راکٹ چاند پر انسانوں کو لے جانے والے مشن آرٹیمس2 کی تیاریوں کے سلسلے میں فلوریڈا کے کیپ کیناورل میں لانچ پیڈ پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ مشن گزشتہ 50 برسوں میں چاند پر جانے والا پہلا انسانی مشن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
تقریباً 12 گھنٹوں کے دوران 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کو عمودی حالت میں وہیکل اسمبلی بلڈنگ سے 4 میل (6.
راکٹ اب اپنی جگہ نصب ہو چکا ہے جہاں حتمی ٹیسٹس، جانچ پڑتال اور ایک مکمل ڈریس ریہرسل کی جائے گی جس کے بعد 10 روزہ آرٹیمس ٹو مشن کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ اس مشن میں چار خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے۔
ناسا کے مطابق راکٹ کی ممکنہ کم از کم لانچ تاریخ 6 فروری ہے، تاہم فروری کے آخر، مارچ اور اپریل میں بھی متبادل لانچ ونڈوز موجود ہیں۔
راکٹ کو لانچ پیڈ پر پہنچائے جانے کے دوران ایک دیوہیکل مشین کرالر ٹرانسپورٹر کے ذریعے راکٹ کو زیادہ سے زیادہ 0.82 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے منتقل کیا گیا جس کی براہ راست نشریات بھی کی گئیں۔
ناسا نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں راکٹ پر ویٹ ڈریس ریہرسل کی جائے گی جس میں ایندھن بھرنے اور لانچ کاؤنٹ ڈاؤن کے طریقۂ کار کی آزمائش شامل ہو گی۔
آرٹیمس 2 کے خلا بازوں میں ناسا کے ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوک اور کینیڈا کے خلا باز جیرمی ہینسن شامل ہیں جو راکٹ کی منتقلی کے دوران کینیڈی اسپیس سینٹر میں موجود تھے۔
یہ مشن دسمبر 1972 میں اپالو 17 کے بعد چاند پر جانے والا پہلا انسانی مشن ہو گا۔ اگرچہ آرٹیمس 2 میں چاند پر لینڈنگ نہیں کی جائے گی بلکہ یہ مستقبل کی لینڈنگ مشن آرٹیمس 3 کی بنیاد رکھے گا۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس 3 مشن 2027 سے پہلے ممکن نہیں جبکہ ماہرین کے خیال میں سنہ 2028 اس کی ممکنہ تاریخ ہو سکتی ہے۔
خلاباز کرسٹینا کوک نے کہا کہ راکٹ کو دیکھنا ایک ناقابلِ یقین تجربہ تھا۔
مزید پڑھیے: برطانوی کمپنی نے خلا میں فیکٹری قائم کردی، مال کونسا تیار ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ لانچ کے دن خلا باز بہت پُرسکون ہوتے ہیں کیونکہ ہم مکمل طور پر تیار ہوتے ہیں کہ وہ مشن انجام دیں جس کی تربیت ہم نے حاصل کی ہوتی ہے۔
جیرمی ہینسن نے امید ظاہر کی کہ یہ مشن دنیا بھر کے لوگوں کے لیے تحریک کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ چاند کو ہم ہمیشہ دیکھتے آئے ہیں مگر اب ہم اسے مختلف نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد انسان چاند کے دوسری جانب پرواز کریں گے جو انسانیت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
مشن کے ابتدائی 2 دن خلا باز زمین کے گرد مدار میں گزاریں گے جہاں وہ تقریباً 40 ہزار میل دور تک جائیں گے۔ اس کے بعد وہ ڈھائی لاکھ میل کا سفر طے کر کے چاند کے قریب پہنچیں گے۔
مزید پڑھیں: فروری کا ’برفیلا چاند‘ کب چمکے گا؟
چاند کے دوسری جانب پرواز کے دوران خلا بازوں کو 3 گھنٹے چاند کے مشاہدے، تصاویر لینے اور اس کی ارضیاتی ساخت کے مطالعے کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو مستقبل میں چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ کی تیاری میں مدد دے گا۔
آرین خلائی جہاز کا ایک اہم حصہ یورپی سروس ماڈیول جرمنی کے شہر بریمن میں تیار کیا گیا ہے جو یورپی خلائی ایجنسی کی شراکت ہے اور ایئربس نے اسے تیار کیا ہے۔
ناسا حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشن کو پہلے کئی تاخیر کا سامنا رہا ہے لیکن حفاظت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسان اگلے سال نصف صدی بعد دوبارہ چاند کی طرف روانہ ہونے کے لیے تیار
آرٹیمس مشن مینجمنٹ ٹیم کے سربراہ جان ہنی کٹ نے کہا کہ میرا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے ہمارے چاروں خلا بازوں کی بحفاظت واپسی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسی وقت پرواز کریں گے جب ہم مکمل طور پر تیار ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چاند پر جانے کی تیاریاں چاند پر جانے والا دیوہیکل راکٹ ناسا ناسا کا دیوہیکل راکٹ ناسا کا مشن آرٹیمس2
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چاند پر جانے کی تیاریاں ناسا کا مشن آرٹیمس2 چاند پر جانے کے دوران خلا باز جائے گی چاند کے ناسا کا راکٹ کو
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔