انٹرنیٹ صارفین کیلئے بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان میں فائیو جی کی لانچنگ سے متعلق بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی حکومت نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی رمضان میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان حکومت نے رمضان المبارک 2026 کے مہینے میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا فیصلہ کیا ہے، اور نیلامی کے بعد چھ ماہ کے اندر بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے کہا کہ کوشش ہے فروری کے آخر تک فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کردیں، نیلامی کے بعد تین چار ماہ میں تھری جی اور فور جی سروس بہتر ہوجائے گی۔
ساڑھے بارہ ہزار ٹیچرز انٹرنز مگر تاحال تنخواہوں سے محروم
شزا فاطمہ نے کہا کہ کوشش ہےکہ 6 ماہ میں بڑے شہروں میں فائیو جی سروس لانچ کردیں، پی ٹی اے اسٹیک ہولڈرز سےکوالٹی آف سروس، رول آؤٹ شرائط پر مشاورت کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مزید کہا کہ ٹیلی کام کمپنیاں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں، تمام کمپنیوں کو 3 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے، مشاورت کے بعد فروری کے پہلے ہفتے میں انفارمیشن میمورنڈم کو حتمی شکل دیں گے۔
بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ کا سوشل میڈیا سےعارضی کنارہ کشی کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی میں فائیو جی
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔