پاکستان میں چاند نظرنہیں آیا: یکم شعبان المعظم21جنوری، شب برأت4فروری کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ماہِ شعبان المعظم کا چاند نظر نہیں آیا، یکم شعبان المعظم 1447ھ، 21 جنوری 2026ء بروز بدھ ہوگی۔
ماہِ شعبان المعظم کا چاند دیکھنے کے لیے چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبد الخبیر آزاد کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جبکہ زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں ہوئے۔
اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹر رابطہ حافظ عبدالقدوس، ڈاکٹر شاہد الرحمن مارتھ اور نصیرالدین نے فرائض انجام دیے۔اجلاس میں محکمہ موسمیات، سپارکو ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے حکام نے شرکت کی ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں مطلع ابر آلود رہا، تاہم کچھ مقامات پر مطلع صاف بھی تھا، اس کے باوجود کسی بھی مقام سے چاند نظر آنے کی معتبر شہادت موصول نہیں ہوئی۔
اعلامیہ کے مطابق عدمِ رویت کی بنیاد پر اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ یکم شعبان 21 جنوری بروز بدھ ہوگی۔ شب برأت 4 فروری بدھ کے روز مذہبی عقیدت کے سامنے منائی جائے گی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔