کابل میں بم دھماکا، سات افراد ہلاک، چینی باشندوں سمیت متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کابل:
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سخت سیکیورٹی زون میں واقع ایک ہوٹل میں بم دھماکے کے سبب کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں دو چینی باشندے بھی شامل ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق حکومت نے ابھی ہلاکتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکے میں اب تک کم از کم سات افراد ہلاک ہوچکے ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
یہ دھماکا کابل کے سخت سیکیورٹی والے علاقے میں ہوا ہے جہاں اہم دفاتر، شاپنگ سینٹر، ریستورانوں اور سفارت خانوں کی عمارتیں ہیں اور اسے دارالحکومت کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
افغانستان کی وزارت داخلہ نے دھماکے کی تصدیق کی ہے۔ ترجمان عبدالمتین قانی نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ واقعے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ہلاکتوں کی حتمی صورتحال بعد میں واضح ہوگی۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق دھماکا گل فروشـی اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں ہوا جو تجارتی علاقے شہرِ نو میں واقع ہے، دھماکے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق دھماکے کے بعد جائے وقوع پر فائر فائٹرز، ایمبولینسز پہنچیں جنہوں ںے امدادی کاموں میں حصہ لیا جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
دریں اثنا چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژنہوا کے مطابق واقعے میں دو چینی شہری شدید زخمی ہیں، ایک افغان سیکیورٹی گارڈ ہلاک ہو چکا ہے اورریستوران کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افراد ہلاک کے مطابق
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں