مریم اورنگزیب کا پہلے سے زیادہ خوبصورت روپ، والدہ نے وضاحت کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات کے دوران سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کا پہلے سے زیادہ خوبصورت روپ مرکز نگاہ بن گیا تاہم اس حوالے سے وزیر کی والدہ نے وضاحت کردی ہے۔
مریم اورنگزیب کی اسٹائلش اور منفرد انداز میں شرکت اور تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہیں۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی شخصیت کیسے اچانک سے تبدیل ہوئی ؟ میرا سوال
میری بیٹی پچھلے کوئی 2۔۔3 ماہ سے بڑی سخت ڈائٹ پر ہیں میں نے بھی منع کیا ہے وہ صرف چائے اور کافی پی رہی ہیں، اب تھوڑی پتلی ہوئی ہیں تو ایسی لگ رہی ہیں باقی کوئی سرجری وغیرہ نہیں کروائی،طاہرہ اورنگزیب pic.
— Ahsan Wahid (@AhsanWahid13) January 19, 2026
سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ انہوں نے سرجری کروالی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان کی پرانی تصاویر کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے قیاس آرائیاں کیں کہ مریم اورنگزیب نے سرجری کرائی ہے جبکہ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ان کی ٹرانسفارمیشن کو حوصلہ افزا اور ہر عورت کے لیے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نتائج کے لیے مضبوط ارادہ، مستقل مزاجی اور سخت نظم و ضبط ضروری ہے۔
Graceful @Marriyum_A at Junaid Safar's reception pic.twitter.com/TivZKekhiQ
— Showbiz & News (@ShowbizAndNewz) January 18, 2026
مریم اورنگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیٹی نے کوئی سرجری نہیں کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ مریم اورنگزیب گزشتہ چند ماہ سے سخت ڈائٹ پر ہیں جس کے نتیجے میں ان کا وزن کم ہوا ہے اور وہ اس طرح نظر آ رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مریم اورنگزیب مریم اورنگزیب کا ’نیا روپ‘ مریم اورنگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب مریم اورنگزیب کا نیا روپ مریم اورنگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب مریم اورنگزیب کی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔