شہباز شریف اور مریم نواز کیخلاف نیب کی درخواستیں غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواستیں غیر موثر ہونے پر نمٹا دیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نیب کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران نیب کے سینئر پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شہباز شریف 2023 میں آشیانہ ریفرنس اور رمضان شوگر ملز ریفرنس سے بری ہو چکے ہیں، اس لیے ان کے خلاف دائر نیب کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
عدالت نے نیب کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی، اسی طرح لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چیئرمین نیب کی جانب سے دائر مریم نواز سے متعلق درخواست پر بھی سماعت کی، نیب کے سینئر پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مریم نواز نیب کے کیس میں بری ہو چکی ہیں، لہٰذا نیب کی درخواست غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی جائے۔
عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا جبکہ نیب نے مارچ 2021 میں مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: درخواست غیر مؤثر لاہور ہائیکورٹ ہونے پر نمٹا دی نیب کی درخواست مریم نواز
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔