تاجک فورسز کا افغانستان سے دراندازی کرنے والے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کرنیکا کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
تاجک فورسز کا افغانستان سے دراندازی کرنے والے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کرنیکا کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز
دوشنبے(سب نیوز )تاجکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے پڑوسی ملک افغانستان سے سرحد پار کرنے والے چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے، جنہیں سرکاری طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی علاقے میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تاجک سکیورٹی اداروں کے مطابق جنوبی علاقے خاتلون میں یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مسلح افراد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔تاجک حکام کے مطابق نومبر کے بعد سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر اس نوعیت کے کم از کم 5 واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 16 افراد کی ہلاک ہوئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تاجک سرحدی محافظ، چینی شہری اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں تاجک حکومت اسمگلر اور دہشت گرد قرار دیتی ہے۔نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکام نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس غیر مستحکم سرحدی خطے میں بدامنی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم 2026: وفاقی وزیر خزانہ کی سعودی ہم منصب سے ملاقات ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم 2026: وفاقی وزیر خزانہ کی سعودی ہم منصب سے ملاقات گل پلازہ میں باہر نکلنے کے راستوں پر بھی دکانیں بنائے جانے کا انکشاف ملک میں شعبان المعظم کا چاند نظر نہیں آیا ، یکم شعبان بدھ کو ہوگی پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی جاری، مجموعی تعداد سامنے آگئی چیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،فائر سیفٹی کے اقدامات کا جائزہ برطانیہ کی ہائی کمشنر، جین میریٹ کی نائب وزیر اعظم سے ملاقات،باہمی تعلقات پر گفتگوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی