زرعی پیداوار بڑھانے میں کردار ادا کریں، وزیر اعظم کا کسانوں اور ماہرین پر زور
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی معیشت ہے اور ملک کی 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ زراعت ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کسانوں، زرعی اداروں، اساتذہ اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھ کر زرعی پیداوار بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری شخصیات کے درمیان بی ٹو بی (B2B) اور جی ٹو جی (G2G) ایم او یوز پر دستخط ہو چکے ہیں اور انہیں عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے مثبت پیشرفت جاری ہے،دنیا میں کامیابی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوتی۔
شہباز شریف نے بتایا کہ ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے چین کے تحقیقی مراکز میں تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ زیادہ پیداوار اور اعلیٰ معیار کے ذریعے تجارتی سرپلس حاصل کیا جائے۔
وزیر اعظم نے پالیسی ریٹ میں کمی کی جانب بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد پر آ چکا ہے جو معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے سی پیک کو گیم چینجر منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب سی پیک فیز ٹو کے منتظر ہیں اور امید ظاہر کی کہ چین کے صدر پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی سالگرہ کی تقریبات میں پاکستان کے مہمان ہوں گے۔
شہباز شریف نے نوجوانوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ محنت اور خلوص کے ساتھ پاکستان کو عظیم بنایا جا سکتا ہے اور روشن کل کی امید دی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ چین کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔